ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لائیو کیمروں کے سامنےباس کی بانہوں میں جھول کر بدنام ہو جانےوالی خاتون نے  خاموشی توڑ دی

Coldplay consert scandal, Kiss video scandal,
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: میوزک کنسرٹ میں باس کی بانہوں میں جھولنے کے سبب دنیا بھر میں بدنام ہو جانے والی خاتون نے آخر کار خاموشی توڑ دی اور دنیا میں وائرل ہو جانے والی ویڈیو کے پیچھے موجود حقیقت بتا دی۔ 

کچھ ماہ پہلے  کولڈ پلے کا ایک کنسرٹ بوسٹن میں ہوا تو وہاں  ہزاروں فینز میں موجود دو افراد اچانک  کنسرٹ وینیو پر نصب بڑی سکرینوں پر نظر آنے لگے، ایک خاتون کسی مرد کی بانہوں میں جھول رہی تھی اور دونوں میں انٹی میسی نمایاں دکھائی دے رہی تھی، وہ شادی شدہ تھے لیکن الگ الگ شوہر اور بیوی کے ساتھ بندھے ہوئے تھے، وہ دونوں باس اور ماتحت تھے؛ یہ ہی بات ان کے ایک دوسرے کے بہت قریب دکھائی دینے کو سکینڈلائز کرنے کا سبب بنی، ان کی ویڈیو کنسرٹ کی بڑی سکرینوں سے ہو کر سوشل میڈیا پر پھیلی اور ایسی پھیلی کہ ویڈیو میں نطر آنے والے مرد کو جو   سابق آسٹرونومر سی ای او اینڈی بائرن تھے اور ایک بڑی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر تھے، اپنی نوکری سے استعفیٰ دینا پڑا۔

ان دونوں کو تو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے البتہ "کولڈپلے" پر اپنے کنسرٹ میں بنی یہ ویڈیو کلپ وائرل ہو جانے سے یہ فائدہ ہوا کہ ان کی ویڈیوز کو دیکھنے والوں کی تعداد میں 25 فیصد کا بہت بڑا اضافہ ہو گیا۔ 

بائرن کے ساتھ نطر آنے والی خاتون ان کے ادارہ میں ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کی ایگزیکٹو تھیں، ان کا نام  کرسٹن کیبوٹ ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔ ان کو بھی کچھ دن بعد اپنی نوکری چھوڑنا پڑی اور نوکری کے  بعد ان کی شادی بھی خڑاب ہو چکی تھی، طلاق کی طرف بھی جانا پڑا۔ 

اس ساری ٹوٹ پھوٹ کے دوران کرسٹن کیبوٹ خاموش رہیں، اب وہ بول رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ دراصل کیا ہوا تھا۔

سابق ایچ آر ایگزیکٹیو نے خاموشی توڑی تو یہ بتایا کہ وہ واقعی اپنے باس اینڈی بائرن پر فریفتہ تھیں۔ کرسٹن کیبوٹ کے بقول بائرن ان کا کرش تھے اور وہ ان کو اپنے دوستوں سے ملوانے کے لئے پرجوش تھیں۔ اس دوران کنسرٹ مین انہوں نے کچھ ڈرنکس پی لیں، پھر وہ ویڈیو بن گئی۔
 16 جولائی کو کولڈ پلے کے بوسٹن کنسرٹ کے دوران  53 سالہ 2 بچوں کی ماں کرسٹن کیبوٹ اور   آسٹرونومر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈی بائرن  اس وقت کنسرٹ میں موجود تمام افراد، لائیو نشریات میں کنسرٹ دیکھنے والے لوگوں اور سوشل میڈیا کی بیک وقت توجہ کا مرکز بن گئے جب کسی کیمرے کے پیچھے موجود ستم ظریف نے کیمرے کو ان پر ہی ٹھہرا دیا۔ اس وقت اینڈی بائرن اپنی ماتحت کرسٹن کو اپنی بانہوں میں جکڑ رہے تھے اور دونوں ایک دوسرے میں گم دکھائی دے رہے تھے۔

اب ایک  امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کرسٹن کیبوٹ نے تسلیم کیا کہ میں نے غلط فیصلہ کیا، کچھ ڈرنکس لیں اور اپنے باس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔ میں نے اپنی غلطی کی ذمے داری قبول کی اور اسی کی قیمت ادا کرتے ہوئے اپنا کیریئر چھوڑ دیا۔

 کیبوٹ نے اعتراف کیا کہ مجھے اینڈی بائرن پر ’کرش‘ تھا اور میں اسے  اپنے دوستوں سے ملوانے کے لیے پُرجوش تھی۔

کرسٹن کیبوٹ نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ انسان سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اس کی سزا دھمکیوں یا جان سے مارنے کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔

 کرسٹن کیبوٹ  نے پہلی مرتبہ اس واقعہ کی سوشل ٹریٹمنٹ سے اٹھائے دکھوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ مجھے شدید آن لائن نفرت، کردار کشی اور صنفی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔  عورت ہونے کے ناطے الزام تراشی کا بڑا بوجھ مجھ ہی پر ڈالا گیا۔

 ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کو میری ساری پروفیشنل جدوجہد کو مٹا دینے کے مترادف بنا دیا گیا، حالانکہ، مس کیبوٹ نے عزم کا اظہار کیا،  میں اسے اپنی زندگی کا آخری باب نہیں بننے دینا چاہتی۔

 اس واقعے کے ایک دن بعد اینڈی بائرن نے سی ای او کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا  تھا اور  کرسٹن کیبوٹ نے بھی جلد ہی وہ ملازمت چھوڑ دی تھی۔

 کیبوٹ نے 13 اگست کو طلاق کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ ان کے شوہر نے یہ تسلیم کیا ہے کہ 16 جولائی کے  کنسرٹ سے پہلے ہی ان کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ ہو چکا تھا۔