سٹی42: بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن جوئے کی مرض لگانے والے نام نہاد "سوشل میڈیا انفلوئنسر" کا عدالت نے مزید چار روز کا جسمانی ریمانڈ دے کر اسے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حوالے کر دیا۔
اس نام نہاد انگلوئنسر کے پاکستانی نوجوانوں کو جوائے کے نام سے لوٹنے والے غیر ملکی گروہ لا ایکنٹ ہونے کے ثبوت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حاسل کر لئے۔ اس ایجنٹ کو چند روز پہلے تک ایک مشہور اور با اثر سوشل انفلوئنسر کی حیثیت سے جانا جاتا تھا اور کئی پاکستانی چینل اس کو اپنے ٹاپ رینکنگ شوز مین مہمان کی حیثیت سے انوائیٹ کر چکے تھے۔
لاہور سے سٹی42 کے رپورٹر شاہین عتیق کی رپورٹ
ضلع کچہری لاہور میں آج مشہور یوٹیوبر اور سوشل میڈیا انفلوئینسر "ڈکی بھائی" کو پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈمنظور کر لیا۔
نیشنل سائبرکرائم ایجنسی نے پہلےملزم ڈکی بھائی کا دو دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ یہ ریمانڈ ختم ہونے پر آج نیشنل سائیبر کرائم ایجنسی نے ملزم کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لئے ملزم کو عدالت میں پیش کیا تھا
نیشنل سائبرکرائم ایجنسی نے مزید ریمانڈ کی استدعا کی
عدالت میں" ڈکی بھائی" کے وکیل نے مزید ریمانڈ کی مخالفت
"ڈکی بھائی" کو جوئے کی ایپلی کیشنز / ویب سائیٹس/ گروہوں کو پروموٹ کرنے کے مقدمہ میں گرفتار کیا گیا۔
پاکستان کے معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کے خلاف کیس نیا موڑ اختیار کرگیا، اب تک سامنے آنے والے حقائق کے مطابق ڈکی بھائی جس کا اصل نام سعد الرحمان ہے، اس کے آن لائن جوا کروانے والی ایپ کا کنٹری ہیڈ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارہ کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ بظاہر ایک مشہور یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی جوا کروا کر نوجوانوں کو لوٹنے والی ایک ایپ کا پاکستان میں سربراہ ( کنٹری ہیڈ ) ہے۔

تحقیقات کرنے والے ادارہ کے حکام کے مطابق سعد الرحمان نے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے وصول کیے اور کم از کم 12 مختلف جوا ایپس کی تشہیر کرنے اور پاکستانیوں کو گمراہ کر کے جوئے کے مذموم دھندے میں پھنسانےمیں ملوث پایا گیا۔۔
ملزم کے خلاف شواہد ملے تو ادارہ نے اس سے تحقیقات کرنا چاہی، بارہا طلبی کے باوجود اس نے تفتیش میں تعاون نہیں کیا۔ اس دوران ادارہ نے اس کے جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد حاصل کر لئے اور اب ملزم گرفتار ہے۔ "ڈکی بھائی" کے خلاف کارروائی کے بعد ان کا نام پرویشنل نیشنل آئیڈینٹی فکیشن لسٹ (PNIL) میں شامل کر دیا گیا، جس کے بعد وہ بیرون ملک جانے کی کوشش پر ایئرپورٹ پر گرفتار ہو گئے۔