سٹی42: آج صبح سے اربن سیلاب جیسی صورتحال سے دوچار کراچی میں بارش دو دن تک جاری رکنے کا امکان ہے لیکن صرف کراچی ہی نہین پاکستان بھر کے بہت سے علاقوں میں شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری ہو گئی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے کراچی کے ساتھ ملک کے باقی حصوں میں جہاں جہاں بارش اور سیلاب کا خطرہ ہے، اس کی تفصیل بتا دی ہے۔
سندھ میں کہاں کہاں بارش اور اچانک سیلاب؟ این ڈی ایم اے الرٹ
این ڈی ایم اے نے سندھ میں شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری کر دی ہے۔
سندھ کے کئی اضلاع میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کا امکان ہے۔ ان اضلاع میں کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، حیدرآباد، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد اور کشمور شامل ہیں۔
سبارش برسانے والا یہ سٹم کے اگلے 2-3 دن تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
بارش کا یہ شدید موسم سندھ کے مختلف حصوں میں اچانک سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔
کراچی، حیدرآباد اور دیگر ساحلی علاقوں، خاص طور پر نشیبی اور ناقص نکاسی والے مقامات پر شہری سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
کراچی میں آج سے زیادہ کل بارش ہو گی
موسم کے ماہرین بتا رہے ہیں کہ کل بدھ کے روز کراچی میں آج سے زیادہ بارش ہو گی۔
کراچی میں مقیم موسم کے ماہرِ جواد میمن نے بتایا کہ آج کے مقابلے میں کل(بدھ کو) مزید تیز بارش ہو سکتی ہے۔
جواد میمن نے یاد دلایا کہ وسطی بھارت میں موجود ڈیپریشن شدت اختیار کر رہا ہے، یہ ڈیپریشن ہوا کے کم دباؤ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایک لو پریشر پہلے سے بھارتی علاقے میں موجود ہے، جواد میمن کو خدشہ ہے کہ کل شام تک یہ سسٹم آپس میں مل سکتے ہیں۔ ان کا امپیکٹ پاکستانی علاقہ تک آ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اس سسٹم کے تحت بدھ اور جمعرات کو کراچی میں تیز موسلا دھار بارش کا امکان رہے گا۔
آج منگل کی رات تک کراچی کے بیشتر مقامات پر 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہو چکی ہے۔
شدید بارشوں کا امکان؛ بلوچستان میں کیا ہو گا
ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں،پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا الرٹ جاری ہو گیا ہے۔
اگلے 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع بشمول کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، مستونگ، نوشکی اور بارکھان میں شدید بارشیں ہونے کا خطرہ ہے۔
بلوچستان میں سبی، ڈیرہ بگٹی، سوئی، خاران، خضدار، قلات، آواران، تربت، واشک، ہنگول اورگڈانی میں بھی موسلا دھار بارشیں برسیں گی۔
شدید بارشوں سے نشیبی اورشہری علاقوں میں سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اورآندھی کے باعث کمزور تعمیرات کو نقصان کا خدشہ ہے۔
پنجاب میں 12 گھنٹے اہم
پنجاب کے آدھے سے زیادہ شہروں میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔
مری، راولپنڈی، جہلم، چکوال اور اٹک میں موسلادھار بارش ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ بارش زیادہ دیر جاری رہی تو راولپنڈی میں شہر سے گزرنے والے نالوں مین سیلاب آ سکتا ہے جس سے نشیبی آبادیاں زیر آب آنے کا خدشہ ہو گا۔
منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور چنیوٹ میں بارش کا امکان ہے۔
لاہور، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد اور سرگودھا میں بھی کل اور پرسوں بارشوں کا امکان ہے۔
بھکر، لیہ، میانوالی اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش کی پیشگوئی ہے۔
ساہیوال، ملتان، بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں بھی بارش کا امکان ہے۔
نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال سمیت ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ موجود ہے۔
خیبر پؒتونخوا، گلگت بلتستان مین مزید بارشیں اور ممکنہ سیلاب
گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بالائی خیبرپختونخوا بشمول چترال، دیر، کوہستان، باجوڑ، مہمندمیں شدید بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور زمینی کٹاؤ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
شاہراہ قراقرم کے مختلف مقامات بشمول تورغرروڈ 120، بٹگرام روڈ 140/شانگلہ رو ڈ160 لوئر کوہستان روڈ180، تتہ پانی روڈ320تا360، گلگت روڈ400تا420اور ہنزہ روڈخاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے صوبائی و ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم ایز، ریسکیو سروسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور فوری ریسپانس کے لیے اہلکار و آلات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔
شہریوں سے گزارش
شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ نشیبی علاقوں سے دور رہیں۔
نکاسی آب یقینی بنائیں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں
سیاحوں اور مسافروں کو مشورہ
پہاڑی علاقوں کے سفر سے گریز کریں اور راستوں کی بندش سے آگاہ رہیں
سڑک بند ہونے کی صورت میں غیر محفوظ راستوں پر سفر کرنے سے گریز کریں