(ویب ڈیسک)بھارت کے ابھرتے ہوئے نوجوان فاسٹ بالر ثاقب حسین کا تعلق بہار کے گوپال گنج سےہے، جنہیں آئی پی ایل میں سب سے پہلے کے کے آر نے 2024 میں خریدا تھا۔ لیکن انہیں ایک بھی میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا تھا۔تاہم اس سیزن مین ثاقب حسین کا شمار ان بالرز میں ہو گیا ہے جنہوں نے آئی پی ایل کے ڈیبیو میچ میں 4 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کی ہیں۔لیکن اس محنت کے پیچھے انکے والدین کی کتنی قربانی اور محبت ہے ، جس کو سن کر آپ رو پڑٰیں گے۔
بھارت کے ایک اردو اخبار کی ویب رپورٹ کے مطابق سن رائزرز حیدرآباد (ایس آر ایچ) کے لیے کھیلتے ہوئے ثاقب حسین نے 4 اوورز میں 24 رن دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ثاقب کے علاوہ پرفل ہِنگے نے بھی 4 وکٹیں حاصل کیں، ان کا بھی یہ ڈیبیو میچ تھا۔ یہاں ہم ثاقب حسین کی زندگی کی ان جدوجہد کے بارے میں بتا رہے ہیں جنہیں پار کر کے وہ آج سٹار بنے ہیں۔ ان کی زندگی غربت میں گزری، جب وہ کولکاتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) میں شامل ہوئے تھے تب فرنچائزی نے ان کا ایک انٹرویو شیئر کیا تھا۔ انٹرویو میں ان کے والد نے بتایا تھا کہ کبھی ایک وقت کے کھانے کے بارے میں بھی سوچنا پڑتا تھا۔ انہوں نے ثاقب کے رویے کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی معاشی صورتحال کو سمجھتا تھا۔
ثاقب حسین کی والدہ نے بھی اس انٹرویو میں بتایا کہ کیسے ان کے بیٹے کو کرکٹ کے جوتے چاہیے تھے، لیکن کافی مہنگے ہونے کی وجہ سے وہ خرید نہیں پا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹا مایوس تھا، اسکی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے، تب انکی ماں نے زیور بیچ کر انہیں اسپائک شوز دلائے۔ ان کے والد کسان تھے، لیکن گھٹنوں میں پریشانی کی وجہ سے وہ کام نہیں کر پاتے تھے۔ ثاقب حسین نے اس انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے ہی والد سے کام نہ کرنے کو کہا تھا۔ ثاقب شروع میں فوج میں بھرتی ہونا چاہتے تھے، اس کے لیے وہ تیاری بھی کرتے تھے۔ پھر انہوں نے ٹینس بال سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا۔ ثاقب حسین کے ٹیلنٹ کو دیکھ کر ان کے دوستوں اور دیگر لوگوں نے انہیں پروفیشنل کرکٹر بننے کا مشورہ دیا۔
قابل ذکر ہے کہ ثاقب حسین کو آئی پی ایل میں سب سے پہلے کولکاتہ نائٹ رائیڈرز نے 2024 میں 20 لاکھ روپے میں خریدا تھا، لیکن انہیں ایک بھی میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ کولکاتہ سے ریلیز کیے جانے کے بعد رواں سیزن ( آئی پی ایل 2026) کے لیے سن رائزز حیدرآباد نے انہیں 30 لاکھ روپے میں خریدا، جن کے لیے انہوں نے پہلے ہی میچ میں 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ثاقب حسین کی آئی پی ایل میں انٹری سید مشتاق علی ٹرافی میں ان کی شاندار کارکردگی کے بعد ہوئی۔ انہوں نے 17 سال کی عمر میں بہار کے لیے سید مشتاق علی ٹرافی میں ڈیبیو کیا، جس کے دوسرے ہی میچ میں انہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔ اس ٹورنامنٹ میں آئی پی یل فرنچائزز کی اسکاؤٹ ٹیم بھی موجود تھی، جن کی نظر ثاقب کی گیند بازی پر پڑی۔ اس کےبعد اسکے ماں باپ کی دعاؤں سے انکے مقدر کا ستارہ چمکا۔