میڈان پاکستان

میڈان پاکستان
City42 - Made in Pakistan

(ندیم خالد) دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کے راز وں کا اگر موازنہ کیا جائے تو بہت سی خامیاں جو ہم ترقی پذیر ممالک میں ہیں ان کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔ اس وقت ملک میں معیشت کی زبوں حالی کا رونا رویا جارہا ہے۔ گزشتہ ادوار میں آنے والی حکومتوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں لوٹ مار کے بازار میں بہت سے لوگوں نے ہاتھ صاف کیے ہیں۔ دنیا میں بہت سے ممالک سے ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جہاں کبھی اسی طرح ہی لوٹ مار کے بازار گرم تھے۔ مگر وقت کے ساتھ لوگوں کو اس کا اندازہ ہوا اس کے خلاف لوگوں نے آواز اٹھائی ۔ ان برائیوں کا خاتمہ ہو گیا۔

ہماری مملکت خداداد کو بھی کچھ اس طرح کی حالت کا سامنا ہے۔لیکن یہاں ہم دوسری قوموں سے سیکھنے کی بجائے ہر نئی آنے والی حکومت پرانی حکومت پر سارا ملبہ ڈال دیتی ہے،اور پھر محو نیند خرگوش ہوجاتی ہے۔یہ کہانی اس طرح آگے بڑھتی رہتی ہے مگر اس کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا جاتا۔ ہمارے سیاستدان دوست بدنام ہوجاتے ہیں مگر باقی کردار اسی طرح اگلی حکومتوں کے ساتھ نتھی ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق وفاقی وزیر نے مجھے بتایا کہ یا ر تم میڈیا والے صرف ہمیں کیوں ٹارگٹ کرتے ہو،ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔ گھر بیٹھے اگر ٹی وی لگا کر بیٹھ جائیں تو بچے پوچھتے ہیں پاپا آپ تو کہتے ہیں کہ ہم عوامی خدمت کر رہے ہیں مگر یہ تو آپ کو چور کہہ رہے ہیں۔

 یہ بات کرکے ہمارے یہ دوست کہنے لگے آپ کا کام ہے ہماری کرپشن کو عوام کے سامنے لائیں۔ اس کے بعد ہمیں چور کہیں ہم مان لیں گے لیکن بس چور چور کی رٹ لگا کر ہمیں بدنام کرنا چھوڑ دیں۔ میں نے کہا کہ اگر کرپشن لائیں تو پھر بھی آپ ہمیں جھوٹا ہی کہیں گے؟ہمارے یہ سینئر وزیر پھر موضوع تبدیل کر گئے۔۔۔اور پھر میں نے آنے کی وجہ بتائی کہ ہمارے ادارے سٹی نیوز نیٹ ورک کی جانب سے جاری مہم میڈ ان پاکستان کے حوالے سے کچھ معلومات کے ارادے سے آیا ہوں۔ پہلے تو حیران ہوئے پھر کہا کہ کچھ دیر کردی ہے آپ نے۔ ہمارے دور حکومت میں یہ مہم شروع کرتے تو میں نے ان کو یاد دلایا کہ آپ کے ہمسایہ ملک میں جب یہ مہم شروع ہوئی تھی آپ اس پر تب کام کرلیتے۔ لیکن تب یہ کام نہیں کیا گیا تو آج ہی عوام کو اسکی کوئی افادیت بتادیں۔

پھر وہ گویا ہوئے پاکستان جیسے ملکوں کو اصل میں جس بیماری نے کھایا ہے وہ یہی ہے کہ ہم نے کبھی اپنی مقامی انڈسٹری پر بھروسہ نہیں کیا ۔اگر ان پر اعتماد کیا ہوتا تو آج ہمیں اس طرح کی مہم چلانے کی نوبت نہیں آنی تھی۔ لیکن یہ مہم شاید قدرت کی طرف سے بھی ویک اپ کال ہے،،ہمیں اس پر سنجیدگی کا مظاہر ہ کرنا چاہیے۔ان کا کہنا ہماری پاکستانی پراڈکٹ لازم کرکے ان کی کوالٹی پر کوئی بھی کمپرومائز نہیں کیا جانا چاہیے۔یہ مہم پاکستان میں انقلاب لے آئے گی۔ہماری ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔

ہمارا ادارہ اس سے پہلے بھی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور درخت لگاﺅ مہم کامیابی سے چلا چکا ہے۔ اس کے بعد میڈ ان پاکستان ایک ایسی مہم ہے جس میں ہم اپنی ذمہ کا مکمل احسا س کر کے اس مہم کا آغاز کرچکے ہیں اب یہ ذمہ داری اس ملک کے ہر شہری پر آتی ہے۔اگر وہ واقعی ہی اپنے اس ملک سے محبت کرتا ہے تو وہ خود سے وعدہ کرے کہ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے ایک دفعہ سوچے گا کہ یہ میڈ ان پاکستان ہے یا نہیں۔

اس حوالے سے ہمارا ادارہ روزانہ کی بنیاد پر اس کی تشہیر کر رہا ہے۔آپ بھی اس سے آگاہی حاصل کریں اور اس کو صدقہ جاریہ سمجھ کر اپنے حلقہ احباب کو بتائیں اوراس مہم کی خوب تشہیر کریں اور اپنے گھر والوں اور عزیزوں کو اس میں شامل کریں تاکہ اس ملک کے روشن مستقبل میں ہم سب ایک ہوکر اپنا حصہ ڈالیں۔

ہمارے ہمسائے ملک میں اس مہم کا آغاز 2014ءمیں کیا گیا، یہ مہم ابھی تک پوری کامیابی سے جاری ہے۔اس کی مثال بولی وڈ کی کچھ دن قبل ریلیز ہونے والی سوئی دھاگے بنائی گئی ہے۔اس مہم کے سلسلے میں مختلف کانفرنس بھی کرائی گئیں جہاں بین الاقوامی وفود نے شرکت کی ہے۔اس سے ہمسایہ ملک کے ہر سیکٹر کو فائدہ ہو رہا ہے اور ملازمت کے بے تحاشا مواقع بھی مل رہے ہیں۔

ہمارے وزیراعظم عمران خان ان دنوں ویسے بھی معیشت کے حوالے سے بہت پریشان ہیں۔ معیشت کمزور ہونے کی صورت میں ڈیم بنانے اور درخت لگانے سے زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر میڈ ان پاکستان جیسی مہم پر غور کیا جائے۔جس سے پیسہ لگانے کی بجائے جہاں درآمدات میں کمی ہوتی وہاں ملازمت کے کئی مواقع مل جانے تھے۔لوگوں نے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا۔

اس سے ہم نے بہت جلد اس قابل ہو جانا تھا کہ ہم اپنے پاکستان میں بنی چیزیں پاکستان سے باہر بھی بھیج رہے ہوتے۔جہاں تک ہم نے عوام سے اس مہم کے متعلق سوالات کیے ہیں ،،،اس مہم کو ہنگامی بنیادوں پر عملی شکل دینے کا مطالبہ کیا اور خوشی کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ کوالٹی پر کوئی کمپرومائز نہ کیا جائے جو کمپنی جعل سازی میں ملوث نکلے اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تو کوئی باہر کی چیز دیکھے گا بھی نہیں۔

اگر میڈ ان پاکستان فٹ بال پوری دنیا میں ہمارا سر فخر سے بلند کر سکتا ہے تواس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہر شعبے میں اسی طرح پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ہماری موجودہ حکومت اگر اس مہم کو سنجیدہ طریقے سے لے کر اس پر غور کرے تو معلوم ہوگا جو عمران خان کی حکومت نے عوام سے وعدے کیے ہیں وہ صرف اسی مہم کے ذریعے ممکن ہوجائیں گے۔

میرا ذاتی طور پر خیال ہے یہ وہ واحد مہم ہوگی جس پر مخالف سیاسی جماعتیں بھی اتفاق کریں گی۔ اگر حقیقت میں ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو یہ اس ملک کی آنے والی نسلوں پر احسان ہوگا۔ وزیر خزانہ اسد عمر کو چاہیے کہ وہ جیسے ہی آئی ایم ایف کے جھنجٹ سے آزاد ہوں تو وہ اس مہم پر غور کریں ہم بحیثیت ادارہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ہماری مکمل حمایت ان کو حاصل ہوگی۔