سٹی42: پاکستان سپر لیگ اور پاکستان کرکٹ بورڈ پر سوشل میڈیا اور نیوز چینلز کے کیمروں کے روبرو تنقید کے گولے برسا کر سستی شہرت حاصل کرنے والے علی ترین کو پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے اہمیت دینا بند کر دیا تو وہ ایک بار پھر تنقید کے گولے برسانے لگے۔ اب علی ترین نے خود کو "سپورٹس مین" قرار دیا ہے اور ایک ایسے معاملہ میں رائے گھسیڑ دی ہے جس کے متعلق کسی "واقعی سپورٹس مین" کا تجربہ بھی صفر ہی ہے۔
تین روز پہلے میڈیا میں یہ خبریں آئی تھیں کہ پی ایس ایل انتظامیہ علی ترین کے ساتھ بزنس ختم کر رہی ہے اور اب ان کے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں کی جا رہی۔
اپنے والد کی بے تحاشا دولت کے بل پر پی ایس ایل کی ٹیم ملتان سلطانز کی فرنچائز خرید کے شہرت حاصل کرنے والے علی ترین کو پی ایس ایل انتظامیہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے بار بار خبردار کیا کہ وہ پبلک پلیٹ فارمز پر پی ایس ایل برانڈ پر "تنقید" نہ کریں، اگر ان کو کوئی شکایت ہے تو وہ متعلقہ فورم پر طریقہ سے بات کریں۔ علی ترین نے ان تنبیہوں کے ردعمل مین زیادہ شدت کے ساتھ "تنقید" کے گولے برسائے۔ جب پی ایس ایل کی مینیجمنٹ نے ان کی باتوں کو اہمیت دینا بند کر دیا تو آج انہوں نے کئی ہفتوں کی خاموشی کے بعد دوبارہ اپنی منہ کی توپ سیدھی کر کے پی ایس ایل پر تنقید کے گولے برسانا شروع کیا ہے۔
علی ترین نے ایک بار پھر پی ایس ایل کے سی ای او کو "پی ایس ایل کا بوزدار" کا توہین آمیز نام دیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے شکایت کی کہ ان کی طرف سے نہ کوئی ای میل آ رہی ہے نہ میسج آ رہا ہے۔
علی ترین کے الزام لگایا کہ پی ایس ایل کا منافع کم ہو رہا ہے، تمام ٹیموں کا منافع کم ہو رہا ہے اس کے باوجود پی ایس ایل انتظامیہ ٹیموں کے دس سال کے لئے کنٹریکٹ کے لئے قیمت کو بڑھا رہی ہے۔
اس مرتبہ علی ترین نےیہ بھی کہا ہے کہ نئی فرانچائز کو بھی مہنگا فروخت کیا گیا تو وہ بھی نہیں چل سکیں گی۔ اگر ان ٹیموں کو مہنگا بیچا گیا تو ان کے مالکان آہستہ آہستہ چھوڑ جائیں گے۔
کرکٹ کی مینیجمنٹ میں ملتان سلطانز خریدنے سے پہلے صفر تجربہ رکھنے والے امیر زادے علی ترین نے کہا، ایسا نہیں ہونا چاہیے بورڈز پیسہ کمائیں اور ٹیمیں رُل جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ بورڈ صرف فرانچائز سے پیسہ لے۔
پی ایس ایل نئے ایڈیشن کیلئے ٹیموں کی تعداد بڑھانے پر کام کر رہی ہے اور نئی ٹیموں کے فرنچائز رائٹس کی نیلامی کرنے جا رہی ہے لیکن علی ترین نے کہا، "اگر ٹیمیں کم ہونا شروع ہوگئیں تو یہ پی ایس ایل کے لیے تباہی ہوگی."
علی ترین نے اپنی پبلک پلیٹ فارمز پر پی ایس ایل اور پی سی بی کے متعلق مسلسل بولنے کے متعلق عذر پیش کیا کہ میں نے تنگ آ کر پی ایس ایل کے معاملات پر تنقید کی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اب پی ایس ایل اور پی سی بی ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا رابطہ نہیں کر رہے۔ علی ترین نے دھمکی دی کہ ہمارے ساتھ رابطہ نہیں کریں گے تو ہمارے پاس قانونی اپشنز موجود ہیں
علی ترین نے اعتراف کیا کہ انہوں نے جب سے پی ایس ایل پر " تنقید" کی ہے تب سے پی ایس ایل اور پی سی بی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا .
علی ترین نے پہلی متربہ یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو خط بھی لکھا ہے۔ علی ترین نے کہا، "شاید کچھ لوگ معاملات کی بہتری نہیں چاہتے."
پی ایس ایل انتظامیہ کا مؤقف
پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے پی ایس ایل کے تازہ ترین کنٹریکٹ راؤنڈ میں ملتان سلطانز کو شامل نہیں کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے کراچی کنگز، پشاور زلمی، اسلام آباد یونائیٹڈ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز کو کنٹریکٹس جاری کردیئے ہیں، تاہم ملتان سلطانز کے مالک علی ترین کو نیا معاہدہ نہیں دیا گیا کیونکہ وہ پی سی بی کی کمپلائنس ریکوائرمنتس پوری کرنے میں ناکام رہے۔
تمام ٹیموں کو 25 فیصد اضافہ کے ساتھ نئے کنٹریکٹ دیئے گئے
دیگر تمام فرنچائزز کو 25 فیصد اضافے کے ساتھ کنٹریکٹ آفر دی گئی اور انہیں دستخط کے لیے 10 دن کا وقت دیا گیا تھا۔
ملتان سلطانز کو پی ایس ایل کی طرف سے شو کاز نوٹس بھیجے گئے تھے جن کے جواب مین علی ترین نے سوشل پلیٹ فارمز اور نیوز چینلز کے کیمروں کے سامنے آ کر پی ایس ایل پر مزید تنقید کی اور بھیجے گئے قانونی نوٹس کو پھاڑ کر اس عمل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کروائی۔
پی ایس ایل کے شو کاز نوٹس کا مناسب جواب نہیں دیا تھا۔ اس کے بعد علی ترین کے رویہ سے مایوس ہو کر پی ایس ایل انتظامیہ نے ان کو ویلیوایشن رپورٹ بھی نہیں بھیجی، جس سے صورتحال واضح ہوگئی تھی کہ اب پی ایس ایل علی ترین کے ساتھ مزید بزنس کرنے کی متمنی نہیں ہے۔
علی ترین اس سے قبل پی سی بی انتظامیہ پر ایسی تنقید کرتے رہے ہیں جس کا کوئی عملی معنی نہیں تھا۔
نئی ٹیموں کی نیلامی کے لئے ٹینڈر کا پروسیس
دوسری جانب پی سی بی نے پی ایس ایل کی 7ویں اور 8ویں ٹیم کی فروخت کے لیے ٹینڈر جاری کردیا ہے۔ خواہشمند خریدار 15 دسمبر تک اپنی تجاویز جمع کرا سکتے ہیں، جس کے بعد دونوں نئی ٹیموں کی نیلامی ہوگی۔
نئی فرنچائزز کے لیے ممکنہ ناموں میں حیدرآباد، سیالکوٹ، مظفرآباد، فیصل آباد، گلگت اور راولپنڈی جیسے شہروں کے نام شامل ہیں۔ فرنچائز مالکان اپنی نئی ٹیم کے لیے کسی بھی شہر کا انتخاب کر سکیں گے۔
پی ایس ایل فرنچائز ٹیموں کے نام شہر یا علقہ کے نام سے منسوب کرنے کا عملاً کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ ہر ٹیم کی مینیجمنٹ اپنے لئے کھلاڑی کہیں سے بھی لے سکتی ہے اور اپنے دفاتر کہین بھی بنا کر آپریٹ کر سکتی ہے۔ البتہ کسی ٹیم کا کسی شہر سے منسوب ہو جانا اس شہر کے کرکٹ لوورز اور ان کے ساتھ عام شہریوں کو بھی متوجہ کرتا ہے اور ٹیم اس شہر مین اپنا فین ڈم بنانے میں عموناً کامیاب رہتی ہے۔ ایسا اب تک پی ایس ایل کی تمام چھ ٹیموں کے معاملہ میں دیکھا گیا ہے۔