ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بغیر سرجری گھٹنے کے درد میں نمایاں کمی، نئی تحقیق سامنے آ گئی

بغیر سرجری گھٹنے کے درد میں نمایاں کمی، نئی تحقیق سامنے آ گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: گھٹنوں کے دائمی درد میں مبتلا لاکھوں مریضوں کے لیے ایک نئی طبی پیش رفت امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے، جس کے تحت کم تکلیف دہ طریقہ علاج کے ذریعے طویل عرصے تک درد میں نمایاں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

یہ جدید طریقہ جسے جینیکولر آرٹری ایمبولائزیشن (GAE) کہا جاتا ہے، ایک نسبتاً معمولی طبی عمل ہے جس میں گھٹنے کے جوڑ کے گرد بننے والی غیر معمولی خون کی باریک رگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق آسٹیوآرتھرائٹس میں متاثرہ جوڑوں کے گرد اضافی خون کی نالیاں سوزش اور شدید درد کا باعث بنتی ہیں۔ GAE کے دوران ریڈیولوجسٹ ایک باریک کیتھیٹر کے ذریعے ان مخصوص رگوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں بند کر دیتا ہے، جس سے بغیر بڑی سرجری کے درد اور سوزش میں کمی آتی ہے۔

آسٹیوآرتھرائٹس دنیا بھر میں سب سے عام جوڑوں کی بیماری ہے، جو عالمی ادارہ صحت کے مطابق 36 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بیماری عمر رسیدہ افراد میں خاص طور پر عام ہے اور روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

تحقیق میں 114 خواتین اور 80 مرد شامل تھے جن کی اوسط عمر 69 سال تھی۔ یہ تمام مریض پہلے سے مختلف علاج جیسے فزیوتھراپی، درد کش ادویات اور انجیکشنز سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کر سکے تھے۔

نتائج کے مطابق علاج کے بعد مریضوں میں درد کی شدت میں تیزی سے کمی دیکھی گئی اور مجموعی جسمانی کارکردگی میں بھی بہتری سامنے آئی۔ 12 ماہ بعد تقریباً 80 فیصد افراد نے نمایاں بہتری رپورٹ کی، جبکہ بہت کم مریضوں میں معمولی اثرات دیکھے گئے۔

مطالعے کے سربراہ ڈاکٹر فلیکنسٹائن کے مطابق یہ طریقہ کار نسبتاً محفوظ، کم تکلیف دہ اور طویل مدتی ریلیف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو مستقبل میں روایتی انجیکشنز اور حتیٰ کہ گھٹنے کی تبدیلی (کنی ریپلیسمنٹ) سرجری کی ضرورت کو بھی کم کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید تحقیق میں یہی نتائج برقرار رہے تو یہ طریقہ گھٹنوں کے شدید درد کے علاج میں ایک اہم متبادل کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔