سٹی 42: پنجاب بھر کی مختلف جامعات میں زیر تعلیم ان طلبہ کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں جن کے امتحانات میں سپلی (Supply) آئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ان طلبہ کو سمَر سمسٹر (Summer Semester) کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے والدین اور طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ ان کا ایک تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے
متاثرہ سٹوڈنٹس اور ان کے والدین کا کہنا ہے کہ اگر سمَر سمسٹر آفر کر دیا جائے تو بچے اپنا کورس مکمل کر کے بروقت اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے، ورنہ اگلے سال تک انتظار کرنا پڑے گا جس سے نہ صرف تعلیمی سال ضائع ہوگا بلکہ مالی بوجھ بھی بڑھے گا۔ سٹوڈنٹس نے یہ شکوہ بھی کیا کہ کئی نجی یونیورسٹیوں میں سمَر سمسٹر کی سہولت موجود ہے لیکن سرکاری اداروں میں طلبہ کو اس سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔والدین کا کہنا ہے کہ وہ مہنگائی کے اس دور میں پہلے ہی تعلیمی اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اور بچوں کی تعلیم میں مزید تاخیر ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اور اگر سمسٹر سسٹم کے تحت ان کو داخلہ مل جائے تو وہ اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں گے ورنہ ان کو اینول سسٹم کے تحت امتحان دینے پر مجبور کیا جارہا ہے جبکہ کئی یونیورسٹیوں میں اینول سسٹم ختم ہوچکا ہے ۔
متاثرہ طلبہ اور ان کے والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور متعلقہ تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کریں کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر سمَر سمسٹر آفر کیا جائے تاکہ بچوں پر تعلیمی اور ذہنی دباؤ کم ہو سکے اور وہ اپنی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھ سکیں۔
“ہمیں انصاف چاہیے، ہمارا سال ضائع نہ کریں” کے نعروں کے ساتھ طلبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں گے