ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایپل نے اینویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا اعزاز حاصل کر لیا

ایپل نے اینویڈیا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا اعزاز حاصل کر لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے اینویڈیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کا اعزاز دوبارہ حاصل کر لیا۔ ایپل کی مارکیٹ ویلیو تقریباً 4.88 ٹریلین ڈالر رہی، جبکہ اینویڈیا کے حصص میں 3.5 فیصد کمی کے بعد اس کی مالیت تقریباً 4.86 ٹریلین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

سرمایہ کاروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق بدلتے رجحانات کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کی درجہ بندی میں یہ تبدیلی سامنے آئی ہے۔ اینویڈیا تقریباً ایک سال تک دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی رہی، تاہم ایپل نے اپریل گزشتہ سال کے بعد پہلی بار دوبارہ پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔

ماہرین کے مطابق ماضی میں ایپل کو اے آئی کی دوڑ میں نسبتاً پیچھے سمجھا جاتا تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کا اعتماد کمپنی کی سروسز، مضبوط ایکو سسٹم اور ہارڈویئر اپ گریڈز کے ذریعے اے آئی سے آمدن بڑھانے کی صلاحیت پر بڑھا ہے۔

رواں سال ایپل نے طویل انتظار کے بعد اپنے ورچوئل اسسٹنٹ "سری" کا جدید ورژن متعارف کرایا، جس کا مقصد اے آئی کے میدان میں دیگر بڑی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی فونز میں موجود صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر ایپل مستقبل میں مزید مؤثر اے آئی فیچرز متعارف کرا سکتا ہے، تاہم اسے صارفین کی پرائیویسی برقرار رکھنے کے ساتھ یہ توازن قائم کرنا ہوگا۔

دوسری جانب اینویڈیا بدستور مصنوعی ذہانت کی صنعت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور اس کے جدید گرافکس پروسیسرز دنیا بھر میں جنریٹو اے آئی ٹیکنالوجی کا بنیادی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مارکیٹ کے رجحانات تبدیل ہونے کی صورت میں اینویڈیا دوبارہ دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی بن سکتی ہے۔

ادھر اے آئی سے وابستہ سرمایہ کاری کا دائرہ اب میموری چپ بنانے والی کمپنیوں تک بھی پھیل رہا ہے، جہاں مائیکرون اور جنوبی کوریا کی ایس کے ہائنکس بھی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ تاہم جولائی کے دوران مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کے رجحان میں سست روی کے باعث سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔