سٹی42: پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان کاٹھیا نے وزیراعلیٰ مریم نواز کو بتایا کہ جون میں برسات کے آغاز سے آج تک دوران پنجاب میں 108 شہری بارش سے متعلق حادثات میں مرے۔
مریم نواز آج برسات کے حالات کو سمجھنے کے لئے خود پی ڈی ایم اے کے دفتر گئیں۔ وہاں پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے عرفان کاٹھیا اور پنجاب حکومت کے ڈیزاسٹر مین شہریوں کی مدد کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے انہیں بریفنگ دی۔ سینئیر منسٹر مریم اورنگزیب اور چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان مریم نواز کے ساتھ تھے۔
پنجاب کے ریسکیو اہلکاروں نے بارشوں کے دوران مدد کے منتظر 1063 افراد کو مدد فراہم کی۔
ریسکیو ون ون ٹو ٹو کا اچھا رسپانس ٹائم
جہلم اور چکوال میں برساتی پانی میں گھرے افراد کو 23منٹ میں ریسکیو کیا گیا۔
پانی میں پھنسے ہوئے متاثرین کواوسطاً 15منٹ میں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
آرمی ہیلی کاپٹر کا استعمال
جب راولپنڈی اور چکوال میں ضرورت پڑی تو آرمی ہیلی کا کاپٹر طلب کیا گیا۔ یہ ہیلی کاپٹر فوراً بھیج دیا گیا۔ اس ہیلی کاپٹر سے راولپنڈی اور چکوال میں مدد کے منتظر کئی شہریوں کو پانی میں گھرے ہوئے مکانوں سے نکال کر محفوظ جگہوں پر پہنچایا گیا۔
ضلع راولپنڈی میں سیلابی ریلے میں پھنسے6 افراد کو ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کیا گیا۔ضلع چکوال میں 27 افراد کو ہیلی کاپٹر پر ریسکیو کیا گیا۔ضلع جہلم میں 160افراد کو ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کیا گیا،
ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 نے ضلع راولپنڈی میں 450 افراد کو پانی والے علاقہ سے نکالا۔
ضلع چکوال میں ریسکیو 1122 نے 182 افرادکی جان بچائی۔
اموات مکانوں کی دیواریں، چھتیں گرنے، نہروں میں ڈوبنے سے ہوئیں
عرفان کاٹھیا نے سی ایم مریم کو بتایا کہ بارش کے دوران حادثات میں دیواریں، چھتیں گرنے سے 80 افراد فوت ہوئے۔ چھتیں اور دیواریں گرنے سے388 شہری زخمی ہوئے۔
کرنٹ لگنے سے 10، آسمانی بجلی گرنے سے 5 افراد فوت ہوئے۔ نہروں وغیرہ میں 13 افرادڈوب گئے۔
8افرادکرنٹ لگنے سے متاثر ہوئے۔
"اداروں کی غفلت" سے ایک بھی موت نہیں ہوئی
ایک ماہ سے جاری برسات کی بارشوں کے دوران کوئی بھی فرد سرکاری اداروں کی غفلت یا کوتاہی کے سبب زخمی نہیں ہوا۔
پنجاب حکومت کے ڈیزاسٹر میں مدد کے کنٹرول روم سے 20اضلاع کے مختلف علاقوں میں ہر گھر سے رابطہ ممکن ہے۔پنجاب میں جولائی،اگست اور ستمبر کے دوران قدرے زیادہ بارش ہو گی۔ پنجاب کے 16اضلاع میں 40 سے 60فیصد تک زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔
کسی بھی ممکنہ سیلاب کے دوران شہریوں کے بچاؤ کیلئے 200لائف جیکٹ، 100لائف رِنگ اور 10کشتیاں موجود ہیں۔
نالے صاف ہیں
پنجاب کے تقریباً تمام نالے اس وقت صاف ہیں اور ان میں پانی کا بہاؤ عام دنوں سے بہتر ہے۔ نالوں کی ڈی سیلٹنگ سے راولپنڈی کے نشیبی علاقوں سے پانی کا چند گھنٹوں میں نکاس ممکن ہوا۔ پنجاب کے محکمہ آبپاشی، واسا، میونسپل کمیٹی اور کارپوریشن نے 22522 کلومیٹر طویل نالوں کی ڈی سیلٹنگ کی۔
پنجاب بھر میں دریائی اور سیلابی پانی کے راستے میں تجاوزات کو ختم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
پی ڈی ایم اے کے ویئر ہاؤسز سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 11463 لائف جیکٹ مہیا ہیں۔
3386خیمے،4450لائف رنگ اور 1761 بوٹس مہیا کر دی گئی ہیں۔
جہلم میںضلعی انتظامیہ کے 18 ریلیف کیمپ قائم ہیں، بارش سے متاثر شہریوں کو خوراک کے پیکٹ و دیگر ضروری سامان پہنچا دیا گیا تھا۔