ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایف آئی اے کو عمران خان کیخلاف سائفر تحقیقات کی اجازت مل گئی

ایف آئی اے کو عمران خان کیخلاف سائفر تحقیقات کی اجازت مل گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: ایف آئی اے کو چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت سائفر تحقیقات کی اجاز ت مل گئی,لاہور ہائیکورٹ نے سائفر تحقیقات روکنے کے لئے جاری حکم امتناعی واپس لے لیا ۔

جسٹس علی باقر نجفی نے وفاقی حکومت کی متفرق درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری کیا،عدالت نے وفاقی حکومت کی حکم امتناعی واپس لینے کی استدعا منظور کرلی ,وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سمیت دیگر لاء افسران پیش ہوئے اور عدالت میں موقف اختیار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف آفیشل سیکریٹ سروس ایکٹ 1923کے تحت اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا۔وفاقی حکومت نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوے ایف آئی اے کو معاملہ کی تحقیقات کا حکم دیا۔ایف آئی اے نے عمران خان کو 30نومبر کو طلبی کا نوٹس دے دیا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے حقائق چھپا کر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ۔عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس دیے اور سنے بغیر یکطرفہ ایف آئی اے نوٹس پر عمل درآمد معطل کر دیا ۔عدالت کے اس فیصلے سے ایف آئی اے کی تفتیش رُک گئی ۔

وکیل وفاقی حکومت کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت 6 دسمبر 2022 کے دئیے گئے حکم امتناعی کو واپس لے، عدالت نےسائفر کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کی حکم امتناع ختم کرانےکی متفرق درخواست منظور کرلی گئی اور  ایف آئی اے کو  سائفر کے معاملے پر تحقیقات کی اجازت مل گئی۔

خیال رہےکہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان  نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے  مراسلے یا سائفرکو  بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا۔

سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق  سیکرٹری کے اعظم خان کی آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کی تھی۔

ایف آئی اے نے تحقیقات کے سلسلے میں  سابق وزیراعظم عمران خان کو طلب کیا تھا جس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائی کورٹ س رجوع کرتے ہوئے حکم امتناع حاصل کرلیا۔

 وفاقی حکومت نے  حکم امتناع ختم کرانےکی متفرق درخواست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی تھی جسے آج منظور کرلیا گیا ہے۔