ویب ڈیسک: عالمی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے سونے کی قیمتوں سے متعلق نئی رپورٹ جاری کرتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ رواں سال کے اختتام تک عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 6,300 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔
بینک کی جاری کردہ مارکیٹ بریف کے مطابق مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی بڑی وجہ بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک کے مرکزی بینک اپنے زرِمبادلہ ذخائر میں تنوع لانے کے لیے کاغذی اثاثوں کے بجائے حقیقی اثاثوں خصوصاً سونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2026 میں مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری تقریباً 800 ٹن تک رہنے کا امکان ہے، جو عالمی قیمتوں کو مزید سہارا دے سکتی ہے۔
دوسری جانب جے پی مورگن نے چاندی کے حوالے سے محتاط انداز اپنایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چاندی کی قیمت، جو چند ہفتے قبل 122 ڈالر فی اونس کی سطح تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر تقریباً 76 ڈالر فی اونس تک آ چکی ہے۔ بینک کے مطابق چاندی کو سونے کی طرح مرکزی بینکوں کی مستقل سپورٹ حاصل نہیں، تاہم اس کی قیمت 75 سے 80 ڈالر فی اونس کے درمیان مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مقامی مارکیٹوں پر بھی براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔