روزینہ علی: این ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کردیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 23 اگست تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز اور برف پگھلنے میں اضافے کا امکان ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور مون سون بارشوں کے باعث اچانک سیلاب اور ملبے کے بہاؤ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
غذر، ہنزہ، نگر، شگر، گلگت، روندو، تانگیر، داریل، دیامر، استور، اسکردو، گانچھے، کھرمنگ، وادی نیلم اور ملحقہ علاقوں میں خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے بدسوات، اشکومن، ہنارچی، ترسات ہندور، التر، چینٹر، گوپس، یاسین، سوست، ارندو، روشن، حاکس، چتی بوئی، تھلو 1 و 2، ریشون، بریپ، بونی اور سردار گول سمیت دیگر علاقوں کو بھی حساس قرار دیا ہے۔
لشت، پنڈورو چاٹ، کھپلو، ہسپر ہوپر، گلمن، بتورا، ششپر، سونگھور اور شمشال کے علاقوں میں بھی خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
این سی او سی کی جانب سے گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ 22 سے 24 اگست کے دوران حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ہنزہ میں حسن آباد، مرتضیٰ آباد، عطاآباد، ششکٹ، گلمن، گلمیت، گُلکن، حسین آباد، پاسو اور خیبر کو لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔
نگر میں ہوپر، کنجوکشال، گُتاس، سمیار، میاچار، پسن، مناپن، غلمت، تھول نلت اور ہسپر بھی لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرے سے دوچار علاقوں میں شامل ہیں۔
استور میں ترشنگ، رُپل ویلی اور ترشنگ رُپل روڈ، جبکہ دیامر میں رائیکوٹ تا ٹاٹو کوریڈور اور فیری میڈوز روڈ کو سلائیڈ کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔
تھلیچی تا جلی پور اور نانگا پربت کی شمالی و شمال مغربی پہاڑی ڈھلوانوں کے ساتھ اسکردو روڈ پر RD-20 سے RD-80 تک کا علاقہ بھی لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق حساس پہاڑی سڑکوں، شاہراہ قراقرم اور حساس وادیوں میں پتھر گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکیں بند ہونے، آمدورفت متاثر ہونے اور آبادیوں کا رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔
21 اگست تک بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ پنجاب کے بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں موسلادھار بارش متوقع ہے۔
نارووال، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
لاہور، قصور، فیصل آباد، چنیوٹ اور اٹک کے شہری علاقوں کو بھی سیلابی صورتحال کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 21 اگست تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور کہیں کہیں موسلادھار بارش کا امکان ہے، جس کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، باجوڑ، ملاکنڈ، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور صوابی کے ندی نالوں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
مہمند، کرم، ہنگو، جنوبی وزیرستان، کرک اور لکی مروت میں بھی ندی نالوں اور برساتی نالوں میں طغیانی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ دریائے کابل کے معاون دریاؤں میں اچانک تیز بہاؤ کا خدشہ ہے۔
آزاد کشمیر کے باغ، حویلی، پونچھ، ہٹیاں، سدھنوتی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر جبکہ گلگت بلتستان کے ہنزہ اور استور کو بھی سیلابی خدشے کے پیش نظر حساس قرار دیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو، دریائے جہلم میں منگلا کے بالائی علاقوں جبکہ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر درمیانے درجے کے بہاؤ کی توقع ہے۔
دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر کم سے درمیانے درجے کے بہاؤ کی صورتحال متوقع ہے۔ دریائے راوی اور چناب سے منسلک نالوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی ٹیمیں اور ضروری ریسکیو وسائل تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ حساس آبادیوں کے لیے انخلا کے راستوں اور محفوظ مقامات کی نشاندہی یقینی بنانے کا بھی کہا گیا ہے۔
عوام کو گلیشیئرز، گلیشیئر سے آنے والے دریاؤں، ندی نالوں اور خطرناک مقامات کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے کہا ہے کہ کسی بھی غیر معمولی پانی کے بہاؤ یا سطح میں اچانک اضافے کی فوری اطلاع دیں اور ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا غیر ضروری سفر نہ کریں۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سفر سے قبل موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال معلوم کریں۔ شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ کی صورت میں غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کیا جائے، کیونکہ کم گہرا دکھائی دینے والا تیز بہاؤ بھی انسانوں اور گاڑیوں کو بہا سکتا ہے۔
مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے، اس لیے پہاڑی علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہنے اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سفر کے دوران پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ساتھ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔