سٹی42: حماس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروپ نے کل ثالثوں کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز پر اتفاق کیا ہے۔
حماس کے ایک ذریعے نے قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کو بتایا کہ حماس نے ثالثوں کو مطلع کیا ہے کہ اس نے کل پیش کی گئی جنگ بندی اوریرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قطر کے نیوز چینل العربی کی ایک سابق رپورٹ کے مطابق، یہ مذاکراتی دور میں حماس کے تازہ ترین ردعمل کا ایک نظرثانی شدہ ورژن تھا، جس میں 60 دن کی جنگ بندی کے فریم ورک معاہدے سے نمٹا گیا تھا۔
تاہم، سعودی چینل العربیہ نے رپورٹ کیا کہ یہ تجویز دو تجویزوں؛ مکمل جنگ بندی - یعنی جنگ کا خاتمہ - اور ایک عارضی جنگ بندی، جس میں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے آئی ڈی ایف کا بتدریج انخلا شامل ہے، کے درمیان کمپرومائز پیش کرتی ہے۔
ابھی اس حوالے سے کوئی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی، اب تک کے طریقہ کار کے مطابق حماس کی جانب سے ثالثوں کو دیئے گئے کسی بھی جواب کو ثالثوں کی جانب سے اسرائیل کے نمائندوں کو پہنچایا جائے گا جو اسے اپنی حکومت تک پہنچائیں گے۔
اسرائیل کی حکومت کو یرغمالیوں کی ڈیل تک پہنچنے کے لئے اسرائیلی عوام کے زبردست دباؤ کا سامنا ہے، کل اتوار کے روز یرغمالیوں کے فورم کی اپیل پر ملک بھر میں بہت بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا جس کا واحد مطالبہ یرغمالیوں کی واپسی کے لئے حماس کے ساتھ سمجھوتہ کرنا تھا، اس احتجاج پر ردعمل میں وزیراعظم نیتن یاہو نے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ کا دائرہ پھیلانے کے اپنے منصوبے سے دستبردار نہیں ہو رہے۔ اس کے بعد امریکہ کے صدر کا بھی یہ بیان آیا کہ "یرغمالیوں کو صرف اس وقت رہا کیا جائے گا جب حماس کا مقابلہ کیا جائے گا اور اسے تباہ کر دیا جائے گا۔"
اس کے بعد آج شام عرب صحافتی ذرائع سے یہ خبریں آئی ہیں کہ حماس ڈہل کی نئی ترمیم شدہ تجویز سے متفق ہے۔