ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے ملازمین کے حقوق سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے سرکاری اداروں پر بھی لیبر قوانین کے اطلاق کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس بی پی بینکنگ سروسز کی جانب سے دائر 10 رٹ پٹیشنز کو مسترد کر دیا۔
جسٹس عابد حسین چٹھہ کی جانب سے جاری کیے گئے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے لیبر کورٹ اور نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن (این آئی آر سی) کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے برطرف ملازمین کی بحالی اور مستقلی کا حکم دے دیا۔
فیصلے کے مطابق 9 ماہ سے زائد عرصہ تک کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کیے جانے کا حق حاصل ہے، جبکہ زبانی احکامات کے ذریعے برطرفی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ برطرف ملازمین کو تمام مراعات کے ساتھ فوری طور پر بحال کیا جائے۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں سٹیٹ بینک کو کمرشل اسٹیبلشمنٹ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس پر لیبر قوانین کا اطلاق لازم ہے اور ادارے کے داخلی ضوابط لیبر قوانین پر فوقیت نہیں رکھتے۔
عدالت نے سٹیٹ بینک کے ریکارڈ منافع کو اس کی تجارتی حیثیت کا ثبوت قرار دیتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا اور بینک کا مؤقف مسترد کر دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے دیگر کیسز کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔