ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ہمارے اعتراضات کو مانیں، ورنہ پاکستان پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ نہیں چل سکے گی؛ بلاول بھٹو

Bilawal Bhutto, Pakistan Peoples PArty, PPP, Hayatabad Sindh
کیپشن:  پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین، سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے حیدر آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دریائے سندھ پر نئی نہروں کی تعمیر کا منصوبہ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبہ کو نہ چھوڑا گیا تو پاکستان پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت کا اتحاد چھوڑ دے گی۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 :  پاکستان  پیپلز پارٹی کے چئیرمین  بلاول بھٹو  نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام نے نہروں کا منصوبہ مسترد کردیا۔  شیر پنجاب کے کسان اور سندھ کے ہاری کا خون چوس رہا ہے۔  ہم کسی سیاسی مقصد اور مفاد کے لئے نہیں  نکلے، ہم وزرتِ عظمیٰ کے لئے نہیں نکلے ہیں، ہم کسی جیل میں قید کو بچانے کے لئے نہیں نکلے ، ہم سندھو کو بچانے کے لئے نکلے ہیں۔ 

حیدرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا، میں حکومت کو خبردار کرتا ہوں، کسی غلط فہمی میں نہ رہیں کہ میں پیچھے ہٹوں گا، میں اپنے عوام کے ساتھ کھرٓ ہوں، میرے پاس سیلیکٹڈ ہونے کا کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں میرے پاس اگر کوئی چیز ہے تو وہ یہ عوام ہیں۔ 

بلاول بھٹو نے 25 اپریل کو سکھر ڈویژن میں جلسے کا اعلان کردیا۔ 

بلاول بھٹو نے کہا، آپ اپنا منصوبہ چھوڑیں، میں اپنے  عوام کو نہیں چھوڑوں گا۔سندھ کے عوام ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگانے والے کے ساتھ ہیں۔میں اسلام آباد کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ عوام کے مطالبے کو دیکھیں اور سمجھیں، ہمارے اعتراضات کو مانیں، ورنہ پاکستان پیپلز پارٹی آپ کے ساتھ نہیں چل سکے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے حیدرآباد میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے پیپلز پارٹی کے جیالوں کو، بھٹو کے سپاہیوں کو عمر کوٹ کی سیٹ میں تیر کی جیت مبارک ہو، سندھ کی عوام نے ایک بات پھر ثابت کردیا ہے ، چاہے جو بھی سامنے ہو سندھ کی عوام نے ثابت کیا نہ میر کا نہ پیر کا ووٹ صرف تیر کا۔ انہوں نے کہا کہ فوتگی والی سیٹ تھی، یوسف تالپور صاحب اس صوبے کا سینیئر ممبران اسمبلی تھا، اپوزیشن جماعتوں کو اصولی طور پر اس الیکشن کو بلامقابلہ کرنا چاہیے تھا، اسلام آباد میں بیٹھے تجزیہ کار کنفیوز بنے ہوئے تھے، کنفیوز تھے کہ سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کو شکست دلوائیں۔ 

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ ایک پیج پر تھے، 17 جماعتیں سب اکھٹے تھے کہ پی پی کو ہرانا ہے، عمرکوٹ کی عوام کا شکر گزار ہوں تاریخی شکست دی ان کو ، یہ لوگ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، آپ نے اسلام آباد والوں کو شکست دلوایا ہے، آپ نے ان منافق سیاستدانوں کو شکست دلوائی جو میرے اور کارکنان کے درمیان فاصلہ بنانا چاہ رہے تھے، عوام نے ان کو صاف پیغام بھیجا کہ اس صوبے کے عوام شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ آج بھی کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام نے نہروں کا منصوبہ مسترد کردیا، سندھ کے عوام ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگانے والے کے ساتھ ہیں، عمر کوٹ کی عوام نے ثابت کیا کہ اس صوبے کی عوام کینالوں کو مسترد کرتے ہیں۔ 

 ہم جب بھی کسی تحریک کیلیے نکلتے ہیں تو ہم تاریخی شہر حیدرآباد ضرور آتے ہیں، وہ کہتے ہیں پاکستان میں انقلاب لانا ہے تو حیدرآباد ساتھ ملانا ہے ، حیدرآباد نے آج ثابت کیا واضح کیا کہ یہ پیپلز پارٹی، شہید بی بی اور میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو جب شہید ہوئے لاہور میں لوگوں نے خود کو جلا کر احتجاج کیا تھا، بے نظیر بھٹو وفاق کی زنجیر تھیں ان کے ساتھ سب کھڑے تھے، بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تو کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ نہ کھپے کے نعرے لگیں، لیکن اُس وقت صدر زرداری نے کھپے کا نعرہ لگایا، ملک بچایا اور جمہوریت کو بحال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مل کر جدوجہد کی، ہم ساتھ مل کر چار بھائی بن کر اس پرچم کو تھاما اور جنرل ضیاء اور مشرف کو شکست دلوائی، حیدرآباد میں پہلے جمع ہوئے تو یہاں وعدہ کیا تھا کہ سلیکٹڈ کو بھگانا ہے ، یہاں میں نے کہا تھا کٹھ پتلی کو بھگاؤں گا اور وہ وعدہ پورا کر کے دکھایا۔

پانی کا مسئلہ ہے وفاق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ میری اور آپکی جنگ ہے ، پانی کا یہ ایسا مسئلہ ہے جو وفاق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، پانی کی غیر منصفانہ تقسیم عالمی سطح پر پاکستان کو مسئلے میں ڈال سکتی ہے۔ عمر کوٹ کی عوام نے ثابت کیا کہ اس صوبے کی عوام کینالوں کو مسترد کرتے ہیں۔ 

بلاول بھٹو نے کہا کہ  اُس شخص قیدی نمبر 420 نے چھ میں سے دو کینالوں کی منظوری دی تھی، صرف پیپلز پارٹی نے مخالفت کی، میرا جام خان شورو ہو، مراد علی شاہ یا قومی اسمبلی میں یوسف تالپور پیپلز پارٹی نے مخالفت کی، ہم تاریخ میں پہلی بار عدم اعتماد لائے اور بانی پی ٹی آئی کو گھر بھیجا ۔ 

Bilal Arshad

Content Writer