ویب ڈیسک : ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ ’’ ایران نے براہ راست امریکہ سے رابطہ کیا، اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ساتھ ہی ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ خاتمے کی طرف ہے‘‘۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ ایران نے براہ راست واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، کیونکہ انہوں نے جنگ کی موجودہ حالت کو اپنے اختتام کے قریب قرار دیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس مرحلے میں جنگ کو کیسے بیان کریں گے جس میں امریکہ ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’’امید ہے ہم جنگ کے خاتمے کی طرف ہیں‘‘۔ بعد ازاں ٹرمپ نے نارتھ کیرولائنا میں اترنے پر صحافیوں کو بتایاکہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور ہم دیکھیں گے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایران سے براہ راست یا ثالثوں کے ذریعے سنا ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ان سے براہ راست سنا ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہےکہ یہ تبصرہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے، جبکہ جون میں دستخط شدہ ایک یادداشت میں وسیع تر امن معاہدے کے طور پر اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ذہن نشین رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے فروری میں ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، سرکاری عمارتوں، فوجی مقامات، میزائل انفراسٹرکچر اور فضائی دفاع کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ تنازع اس کے بعد سے پورے خطے میں پھیل گیا ہے،اس کے علاوہ ایران نے تیل کی آمدورفت کیلئے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں تیل کا بحران پیدا ہوگیا۔