سٹی42: ہر دل عزیز گلوکار کی موت کا تنازعہ پڑوسی ملک میں سلگتا ہوا ایشو بن گیا، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے گلوکار کی موت کے حقائق جاننے کے لئے آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔
پڑوسی ملک بھارت کے ممتاز گلوکار زوبین گرگ کی اچانک موت معمہ بن گئی ہے۔ گلوکار زوبین گرگ کے لاکھوں پرستار ان کی "حادثہ" قرار دی گئی موت کے حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ زوبین گرگ کی آخری رسومات ان کے مرنے کے ایک ہفتہ بعد ادا کی گئیں لیکن اس کے بعد بھی یہ معلوم نہیں ہو پایا کہ ان کی وفات کیسے ہوئی۔
اپوزیشن اتحاد کی سربراہ آل انڈیا کانگرس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے اب مطالبہ کیا ہے کہ ’زوبین گرگ کی موت سے متعلق تحقیقات آزادانہ اور منصفانہ ہونی چاہیے۔‘
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’زوبین گرگ ہندوستان کی ایک پسندیدہ ثقافتی شخصیت تھے۔ ان کے انتقال نے لاکھوں مداحوں، خصوصاً آسام کے لوگوں کو گہرے صدمہ سے دوچار کیا ہے۔ ‘‘
بھارتی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق زوبین گرگ کی موت کا معمہ ابھی تک حل نہیں ہو پایا ہے۔ ان کی آخری رسومات موت کے تقریباً ایک ہفتہ بعد ہو گئی ہں، لیکن گھر والوں کو شبہ ہے کہ سچائی ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
اس تتنازعے کے متعلق کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کر کے مرکزی حکومت سے ایک اہم مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’زوبین گرگ کی موت سے متعلق تحقیقات آزادانہ اور منصفانہ ہونی چاہیے۔‘‘
اس پوسٹ کو بہت سے لوگوں نے پڑھا اور اس مطالبے کی تائید کی۔
اپنی پوسٹ میں کھڑگے لکھتے ہیں کہ ’’زوبین گرگ ہندوستان کی ایک پسندیدہ ثقافتی شخصیت تھے۔ ان کے انتقال نے لاکھوں مداحوں، خصوصاً آسام کے لوگوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔‘‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’’کانگریس پارٹی ان کے خاندان اور مداحوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان کی موت سے متعلق تحقیقات آزادانہ اور منصفانہ ہونی چاہیے۔ جو لوگ ان کی موت کے ذمہ دار ہیں، انھیں قانون کے مطابق عبرت ناک سزا دی جانی چاہیے۔‘‘
کانگریس صدر کھڑگے نے زبین گرگ کو سبھی کے ذہن و دماغ میں زندہ رہنے والی شخصیت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’زوبین اور ان کی آواز ہمیشہ ہندوستان کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ رہیں گے۔‘‘
کانگریس صدر کے علاوہ سابق پارٹی صدر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے زوبین گرگ کے بارے میں اپنے خیالات ظاہر کیے ہیں۔ انھوں نے آج زوبین گرگ کی آخری آرامگاہ پر پہنچ کر خراج عقیدت بھی پیش کیا تھا۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے زوبین گرگ کے متعلق اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’زوبین دا کنچن جنگا (پہاڑ) کی مانند تھے– سچے، مضبوط اور خوبصورت۔ ہندوستان اور آسام نے صرف ایک فنکار نہیں، بلکہ ایک عظیم روح کو کھو دیا ہے۔ ایک روح جس نے بے شمار دلوں کو چھوا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’زوبین دا کے خاندان اور آسان کے لوگوں کا حق ہے کہ انھیں سچائی اور انصاف ملے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے۔‘‘ آخر میں انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’میں ان کے خاندان کے غم میں شریک ہوں اور ہر ممکن طریقے سے اپنی مکمل حمایت پیش کرتا ہوں۔‘‘
زوبین گرگ کیسے فوت ہوئے
بھارتی گلوکار زوبین گرگ 19 ستمبر 2025 کو سنگاپور کے سینٹ جان جزیرے کے ساحل پر تیراکی کے دوران ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔ ابتدائی میڈیا رپورٹس میں غلط بتایا گیا کہ اس کی موت سکوبا ڈائیونگ کے حادثے میں ہوئی۔
ان کی موت کے بارے میں تفصیلات:
گرگ کو بے ہوشی کی حالت میں پانی سے نکال لیا گیا تھا۔ انہیں سنگاپور جنرل ہسپتال لے جایا گیا، جہاں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔
روبین گرگ نارتھ ایسٹ انڈیا فیسٹیول کے لیے سنگاپور میں موجودتھے۔
سنگاپور پولیس فورس (ایس پی ایف) نے اس واقعہ میں کسی سازش کو مسترد کر دیا اور پوسٹ مارٹم کے نتائج بھارتی ہائی کمیشن کو فراہم کیے، جس میں ڈوبنے کی وجہ سے موت کی تصدیق ہوئی۔
ہندوستانی خبر رساں اداروں نے ایک ویڈیو میں دکھایا کہ روبین گرگ پانی میں کودنے سے پہلے اپنی لائف جیکٹ اتارتے ہیں۔
موت کی وجہ ڈوبنا بتائی گئی لیکن بعد مین یہ تنازعہ پیدا ہو گیا کہ آخر کیسے وہ ڈوب گئے، اس میں کچھ لوگوں کے نام آئے جن پر شبہ کیا گیا۔ اب مداحوں اور روبین گرگ کی فیملی کے مطالبہ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر دونوں شامل ہو گئے ہیں کہ مقبول گلوکار کی موت کی آزادانہ تحقیقات ہونا چاہئے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے ان مطالبات پر اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔