ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے 22 کروڑ روپے کی بجلی چوری کے مقدمے میں ملوث شہری شہباز اکرم کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت کے بعد ایس ڈی او لیسکو کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
جسٹس محمد جواد ظفر نے شہری شہباز اکرم کی درخواست پر سماعت کی ، ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ بشری نثار عدالت میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ملک عمر طاہر کے ہمراہ پیش ہوئیں۔ جسٹس جواد ظفر نے ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا مدعی مقدمہ کے مطابق اس نے نہ تو اس نے درخواست دی اور نہ ہی مقدمہ کے اندراج پر اس کے دستخط ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ “جب مدعی ہی درخواست سے لاعلم ہے تو تصدیق کیے بغیر مقدمہ کیسے درج کیا گیا؟”ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ بشری نثار نے عدالت کو بتایا کہ لیسکو کی جانب سے موصول ہونے والی تمام درخواستوں میں یہی طرزِ تحریر اور دستخط ہوتے ہیں، اسی بنیاد پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ طرزِ عمل انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے، کسی کی تصدیق کے بغیر مقدمہ درج کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
بعدازاں عدالت نے ایس پی انویسٹیگیشن کینٹ کو معاملے کی مکمل تفتیش کرنے اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ایس ڈی او لیسکو کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔عدالت نے قرار دیا کہ پولیس اور لیسکو کے افسران کو مقدمات کے اندراج سے قبل حقائق کی مکمل تصدیق کرنی چاہیے تاکہ بے گناہ شہریوں کو بلاجواز مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔