ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

طالبان رجیم نے رویہ درست نہیں کیا تو  پاکستانی فوج چھوڑے گی نہیں؛سلیم بخاری

Salim Bukhari Show, City42, PTI, Taliban , Afghanistan Pakistan row, Terrorism and Counter terrorist operation
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

فرخ احمد: سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم  اگر اپنا رویہ درست نہیں کریں گے تو  پاکستانی فوج چھوڑے گی نہیں،اب ان مسائل کا حل یا تو عسکری قیادت نے یا سیاسی قیادت نے مل بیٹھ کر کرنا ہے۔  

 24 نیوز کے پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں فتنہ الخوارج کی جانب سے سیز فائر کا فائدہ اٹھا کر پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام ہونے پر  اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ یہ سیز فائر مستقل ہی ہو جائے تو بہتر ہے ورنہ اگر وہ  اپنا رویہ درست نہیں کریں گے تو  پاکستانی فوج چھوڑے گی نہیں،اب ان مسائل کا حل یا تو عسکری قیادت نے یا سیاسی قیادت نے مل بیٹھ کر کرنا ہے، اب بہت ہو گیا 40 سال سے  ہم دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

 انہوں  نے کہا کہ کب ایسا ہوا کہ جو کالعدم تنظیمیں  یا دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں نہیں ہوتی تھیں،افغانستان تو ایسی تنظیموں کے لیے سیف ہیون تھا یہ اصطلا ح ہم نے تھوڑی ایجاد کی تھی بلکہ اقوام متحدہ میں مختلف ممالک نے کہا  تھا کہ افغانستان دہشتگرووں کے لیے سیف ہیون ہے،اب اگر ہم ان کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو افغان حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اب اس خطے میں ہم ہی تو آپ کے دوست رہ گئے ہیں.

 اگر پاکستان سے بھی تعلقات خراب کر لیتا ہے تو وہ مزید تنہائی کا شکار ہو جائےگا؟

 اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تنہائی کا شکار تو پہلے ہی ہے پاکستان کے علاوہ اور کتنے ممالک ہیں جن کے ساتھ افغانستان کے تعلقات ہیں،کتنے ممالک ہیں جنہوں نے طالبان حکومت کو تسلیم   کیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان سے کوئی ایسے ناجائز مطالبات نہیں کر رہے  جو کہ ان کے قومی مفاد کے خلاف ہو ہم تو وہ مطالبہ کر رہے ہیں جو خود کابل حکومت کے حق میں ہے،اس لیے کے داعش ، ٹی ٹی پی  اور دیگر بہت ساری جماعتیں اگر  وہاں رہیں گی تو ایک دن وہ کابل حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں ۔

 تحریک لبیک کا  احتجاج غزہ کے لیےنہیں تھا، سلیم بخاری  کا انکشاف؛

 سلیم بخاری نے کہا کہ یہ کونسا مسئلہ ہےکہ فلسطینی خوشیاں منارہے ہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے جا رہے ہیں، مٹھائی تقسیم ہو رہی ہے  اور ہم احتجاج کر رہے ہیں،جنگ بندی پر فلسطینی سجدہ ریز ہوئے اور ہمارے ملک میں پُرتشدد احتجاج کیا گیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی نمائندے کہ رہے ہیں کہ مذاکرات ان کے نکلنے سے پہلے سے آخری منٹ تک ہوتے رہے، مذہبی جماعت کے اعلیٰ عہدیداران خود بتائیں گے کہ مذاکرات ہوئے، ہر دفعہ انہیں یہی کہا گیا کہ واپس چلے جائیں آپ کو کچھ نہیں کہا جائےگا، ہر دفعہ ان کی شرائط بڑھتی جارہی تھیں۔

 انہوں نے کہاکوئی ان سے پوچھےکہ کیا ان کی شرائط فلسطین کے لیے تھیں؟ ان کی ریلی فلسطین کے لیے تھی یا کچھ لوگوں کی رہائی کے لیے تھی؟ یہ لوگ دہشتگردوں کی رہائی چاہتے تھے،دوسرا وہ ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکن ایمبیس کے سامنے احتجاج کرنا چاہتے تھے جو کہ ریڈ زون ہے وہاں پر مین سٹریم پارٹیوں کو جانے کی اجازت نہیں تو ان کو کیسے اجازت مل سکتی تھی۔

  انہوں نے کہا فلسطین کا مسئلہ پوری امت مسلمہ کا مسئلہ تھا،دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں احتجاج  ہوئے،الحمداللہ اب مسئلہ حل ہوگیا ہے،اس میں پاکستان کا بھی کردار ہے،اب فلسطین کا معاہدہ ہوگیا،قتل و غارت بھی بند ہوگئی ہے ۔

 سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے لیکن  کیا حکومت کسی کو قتل وغارت کی اجازت  دے سکتی ہے،ہر شخص کی جان ومال کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مذہبی جماعت کے جتھے میں کوئی علما نہیں تھے، جتھے نے پولیس پر گولیاں برسائیں، نجی املاک کو نقصان پہنچایا،کسی بھی مسجد، مدرسے، عالم دین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی، صرف  پرتشدد مذہبی جماعت کے جتھے کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

 پنجاب حکومت کی جانب سے  انتہا پسند جماعت پر پابندی کیلئے وفاق کو سفارش کرنے کے فیصلہ؛ 

   اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ ایسا عوام کے مفاد میں ہے جس کے مطابق پنجاب حکومت وفاقی حکومت کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرے گی،انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

 پولیس افسران کی شہادت،سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنماؤں اور کارکنوں پر مقدمات چلیں گے، انتہا پسند جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دی جائیں گی،انتہا پسند جماعت کے پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی ہو گی،نفرت پھیلانے والی انتہا پسند جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے، انتہا پسند جماعت کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔

 سلیم بخاری نے کہا کہ یہ اقدامات امن و امان کے لیے پنجاب حکومت کا احسن اقدا م ہے۔

 وزیر اعلیٰ کے پی کی بانی سے ملاقات، سلیم بخاری نے حمایت کر دی؛

 وزیراعظم  اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ٹیلیفونک رابطے اور وزیر اعظم کی جانب سے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر سہیل آفریدی کو مبارکبادپر  سلیم بخاری نے وزیر اعظم کے  اس اقدام کو سراہا  اور جمہوریت کے لیے مثبت قدم قرار دیا۔

 سہیل آفریدی کو بانی سےجیل میں  ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر بات چیت کرتے ہوئے سلیم بخاری  نے کہا کہ اگرقوانین اس کی اجازت دیتے ہیں تو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے،وزیر اعلیٰ کے پی کی بانی سے ملاقات ضرور کرانی چاہیے۔