ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مفتی عبدالقوی کو بدمعاش قرار دے کر لال مسجد سے نکال دیا گیا

مفتی عبدالقوی کو بدمعاش قرار دے کر لال مسجد سے نکال دیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

جنید انور : وفاقی دارالحکومت کی مشہور لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کو مسجد سے نکل جانے کا حکم دے دیا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق مفتی عبدالقوی لال مسجد کے دفتر میں موجود تھے اسی دوران مولانا عبدالعزیز بندوق کے ہمراہ وہاں پہنچے اور سخت الفاظ میں مفتی قوی کو فوری مسجد سے نکل جانے کا کہا۔ مولانا عبدالعزیز نے مفتی قوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سے نکل جاؤ، آئندہ آئے تو کوڑے ماروں گا۔

مولانا عبدالعزیز نے کسی رسمی گفتگو کے بغیر سخت لہجے میں مفتی عبدالقوی کو فوراً ادارہ چھوڑنے کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ “ نکل جائو ورنہ میں گولی مار دوں گا۔“

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی اس اچانک صورتحال پر خوفزدہ ہوکر جلدی میں کمرے سے نکل جاتے ہیں۔  مولانا عبدالعزیز  نے مفتی قوی کو مسجد مین آنے کی اجازت دینے اور بٹھانے پر اپنے ساتھیوں کو بری طرح ڈانٹا۔ انہوں نے کہا، آپ کو معلوم ہے کہ بدمعاش آدمی ہے، یہ "شادیاں کرتا ہے"، یہ خود اقرار کرتا ہے کہ یہ کیا کچھ کرتا ہے۔ انہوں نے مفتی قوی کو مخاطب کر کے کہا، یہاں سے فوراً چلے جاؤ، دوبارہ ادھر آئے تو تمہیں کوڑے لگواؤں گا۔

مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے بانی پیش امام مولانا عبداللہ کے فرزند ہیں  اور سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے جب لال مسجد میں بعض دہشتگردوں کی موجودگی کا الزام لگا کر یہاں کئی ہفتے سخت محاصرہ کرنے کے بعد بہت خونریز آپریشن کیا تھا تب مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے منتظم تھے۔ 

اس واقعہ کے بعد سے وہ عموماً لو پروفائل میں رہے لیکن مفتی قوی نے لال مسجد جا کر مولانا عبدالعزیز کو  ایک بار پھر جلال والا روپ دکھانے پر مجبور کر دیا۔

انہوں نے دارالافتاء کے لوگوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ جو بھی اس کے ساتھ بیٹھا میں اس کا علاج کروں گا، یہ انسان نہیں ہے۔ یہ جہاں ملے اس کو کوڑے لگائے جائیں، اس بدمعاش کو، یہ خود کہتا ہے میں نے بہت ساری شادیاں کی ہیں، نیا دین بنایا ہے اس نے۔

واقعے کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور صارفین کی جانب سے مختلف رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب مفتی عبدالقوی نے ردعمل میں کہا کہ وہ جمعہ کی نماز کے لیے لال مسجد گئے تھے جہاں مسجد کے علما نے انہیں ایک شرعی مسئلہ پر بات چیت کے لیے دفتر میں مدعو کیا تھا۔ مفتی قوی نے مزید کہا کہ مولانا عبدالعزیز آئے اور انہوں نے مجھے اللہ کے گھر سے نکال دیا۔

یہ واقعہ ملک کے مذہبی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے جہاں ایک طرف لال مسجد کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو دوسری جانب مولانا عبدالعزیز کے سخت رویے پر تنقید کی جا رہی ہے۔