جنید ریاض: سوالیہ پیپر لیک کرنے کے حوالے سے سخت اقدامات کا اعلان کیا گیا جبکہ ایسا کرنے پر تین سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق امتحانی سوالیہ پرچہ لیک کرنا اب قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے جبکہ دوران امتحان سوشل میڈیا پر سوالیہ پیپر اپ لوڈ کرنے پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قبل از وقت پیپر آؤٹ کرنے کی صورت میں تین سال قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے سخت مانیٹرنگ کی جائے گی جبکہ موبائل فون یا دیگر ڈیوائسز کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
مزید برآں،ان مراکز میں خفیہ اداروں اور پولیس کی مدد سے بھی نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔
خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ امتحانات کی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ محکمہ تعلیم نے میٹرک امتحانات کے دوران سیکیورٹی اور امتحانی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رواں سال میٹرک امتحانات 27 مارچ سے باقاعدہ آغاز ہوں گے، جن میں 2 لاکھ 75 ہزار طلباء شرکت کریں گے۔
حکام کے مطابق امتحانات کے دوران بوٹی مافیا کی موقع پر گرفتاری اور مقدمہ درج کیا جائے گا، جبکہ امتحانی میٹریل غائب کرنے والے کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اساتذہ کی جانب سے نقل کروانے پر آئندہ امتحانات میں پابندی لگائی جائے گی اور ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی بھی کی جائے گی۔ اساتذہ کو 50 ہزار روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔تمام امتحانی سنٹرز میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی اور دفعہ 144 نافذ کی جائے گی۔
مزید برآں، غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی ہوگی اور سنٹر میں صرف امتحانی عملہ اور رول نمبر سلپ کے حامل طلباء کو داخلے کی اجازت ہوگی۔