ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق صورتِ حال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ عوام کو یقین دلایا ہے کہ فوری طور پر کسی بحران کا خطرہ نہیں۔
محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے پیٹرولیم اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مارچ کے مہینے کی ضروریات کے لیے ایندھن کے ذخائر مکمل طور پر محفوظ ہیں، جبکہ اپریل کے لیے بھی پیشگی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے تاکہ سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
اجلاس کے دوران یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ عالمی مارکیٹ سے مزید سپلائی چینلز تلاش کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ کمی سے بچا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے اس موقع پر عوام کو تاکید کی کہ وہ بلاوجہ گھبراہٹ کا شکار ہو کر ایندھن ذخیرہ کرنے سے گریز کریں کیونکہ موجودہ صورتحال قابو میں ہے۔
تاہم، اجلاس میں ایک اہم تشویش بھی سامنے آئی جہاں سیکرٹری پیٹرولیم نے خبردار کیا کہ 14 اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پاور سیکٹر کی گیس ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے گا۔
واضھ رہے کہ حکومت ایل این جی کی ممکنہ کمی سے نمٹنے کے لیے متبادل انتظامات پر غور کر رہی ہے، جن میں اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال کی حکمت عملی شامل ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے پر دباؤ کم کرنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ پلان بھی زیر غور ہے، تاہم ابھی تک کسی بڑے بحران کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔