ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور میں بانوے کروڑ روپے کی چوری اور سینہ زوری

Hostorical theft in Lahore, City42
کیپشن: بانوے کروڑ روپے مالیت کے چلغوزہ کی چوری اور اس کے بعد نوسر بازی کا شکار ہونے والے شریف النفس کاروباری لاہور مین سات ماہ سے انصاف کے لئے دربدر ہیں۔ اب انہوں نے انساف وزیراعلیٰ مریم نواز سے مانگا ہے جو خود کو سب شہریوں کی ماں بھی کہتی ہیں۔ لاہور پریس کلب میں چلغوزہ ایسوسی ایشن کے سینئیر عہدیداروں کی نیوز کانفرنس کی یہ سکرین شوٹ سٹی42 کی ویڈیو کلپ سے لی گئی۔
Hostorical theft in Lahore, City42
کیپشن: بانوے کروڑ روپے مالیت کے چلغوزہ کی چوری اور اس کے بعد نوسر بازی کا شکار ہونے والے شریف النفس کاروباری لاہور مین سات ماہ سے انصاف کے لئے دربدر ہیں۔ اب انہوں نے انساف وزیراعلیٰ مریم نواز سے مانگا ہے جو خود کو سب شہریوں کی ماں بھی کہتی ہیں۔ لاہور پریس کلب میں چلغوزہ ایسوسی ایشن کے سینئیر عہدیداروں کی نیوز کانفرنس کی یہ سکرین شوٹ سٹی42 کی ویڈیو کلپ سے لی گئی۔
Hostorical theft in Lahore, City42
Hostorical theft in Lahore, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

اسوہ فاطمہ : لاہور کے بدمعاش گروہ نے  سادہ لوح کاروباریوں کے ساتھ لاہور کی تاریخ کی سب سے بڑی نوسربازی کر ڈالی، لاہور پولیس، وزیراعلیٰ ، کسٹم کے اعلیٰ حکام اور وفاقی ادارے اس  ہولناک چوری اور نوسربازی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ 

لاہور کے دو وکیلوں اور ان کے بھائیوں نے اپنے کولڈ سٹوریج پر رکھوایا گیا بانوے کروڑ روپے مالیت کا چلغوزہ چوری کر لیا اور  الٹا مظلوم کاروباری مدعیوں کو ہی مصیبتوں میں پھنسا دیا، ان کا ڈیڑھ اربے روپے مالیت کا چلغوزہ  کسٹم اہلکاروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے  سربمہر (seal) کروا دیا۔ کروڑوں ، اربوں روپے کا چلغوزہ ایک کاروباری کا نہیں بلکہ سینکڑوں کاشتکاروں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ 

وکیلوں اور ان کے بھائیوں نے مسروقہ مال کی  چوری تمام تفتیشوں میں ثابت ہو جانے کے بعد مدعیوں کے ساتھ 73 کروڑ روپے کی واپسی کا معاہدہ لکھا، کولڈ سٹوریج اور بقیہ رقم نقد کی صورت مین دینے کا معاہدہ کرنے کے بعد  نہ کولڈ سٹوریج کی رجسٹریاں دیں نہ ہی رقم واپس کی بلکہ الٹا مدعیوں کو ہی دوسری مصیبتوں میں پھنسا دیا۔ ان کا دوسرے کولڈ سٹور میں رکھا ڈیڑھ ارب روپے مالیت کا چلغوزہ کسٹم والوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے سیل Seal کروا دیا۔
چلغوزہ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے سینئیر عہدیداروں نے لاہور پریس کلب مین نیوز کانفرنس کر کے لاہور شہر کی اس تواریخی نوسربازی کی کہانی سنا دی، انہوں نے بتایا کہ یہ ملزم مقدمہ میں اشتہاری ہیں اور پولیس انہیں گرفتار کرنے میں دلچسپی ہی نہیں لیتی۔

چلغوزہ ٹریڈ ایسوسی ایشن کے ارکان نے کہا کہ ہم  آئی جی پنجاب سےمسروقہ مال برآمدگی کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئی جی سے  انصاف نہ ملاتو وہ وزیراعلیٰ  ہاؤس کے باہردھرنادیں گے۔

 انہوں نے کہا ہم لاہور میں  پچھلے 40 سالوں سے  چلغوزے کا کاروبار کرتے ہیں اور ہمارے ملک کے لوکل چلغوزہ کو ہم ایک قانونی طریقہ کار کے مطابق لاہور میں لے کر اتے ہیں اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی لے کر جاتے ہیں۔  ہم سردیوں میں یہی چلغوزہ ملک مختلف شہروں میں بیچتے ہیں اور ایک خاص مقدار میں ہم اپنے چلغوزہ کو ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں جو ہمارے ملک کے اکانومی میں ایک وائٹل رول پلے کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا  یہ چلغوزہ بیک وقت بازار میں فروخت نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کو ہم وقتا فوقتا فروخت کرتے ہیں اور ایکسپورٹ بھی کرتے ہیں چلغوزہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک خاص ٹمپریچر کی ضرورت ہوتی ہے جس کو ہم محفوظ رکھنے کے لیے لاہور کے مختلف کول سٹوریج میں رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا،  سات ماہ پہلے لاہور میں عامر روڈ پر واقع کشمیر کو سٹوریج میں ہمارا بانوے ٹرم چلغوزہ پڑا ہوا تھا جس کو کشمیر کو سٹوریج کے مالکان کامران بٹ، عمران بٹ، بدر بٹ ایڈوکیٹ، جمیل بٹ ایڈوکیٹ اور ان کے بھائیوں نے چوری کر لیا جس کی کل مالیت 92 کروڑ روپے بنتی ہے۔

 پھر انہوں نے مختلف قسم کے بانے ہیلے بنائے۔ 

پھر یہ تماشا ہوا کہ  چلغوزہ خورد برد کرنے والوں نے بعد میں خود ہی مدعی بن کر اپنے ایک مزدور کے خلاف چوری کی ایف آئی آر کٹوائی۔   انہوں نے اپنے ہی ایک منشی کو مدعی بنایا اور ایک لیبر کو ایک مزدور کو انہوں نے ملزم بنایا پھر تفتیش ہوئی جس میں وہ کسروار پائے گئے پھر سی ائی اے میں بھی تفتیش ہوئی جس میں وہی قصور وار  پائے گئے ۔

مسروقہ مال کے بدلے کم مالیت کی پراپرٹی دینے کے نام پر جعلسازی

بعد میں ہمارا اور ان کے درمیان 73 کروڑ 60 لاکھ روپے کا ایک معاہدہ سٹیمپ پیپر پر دے پایا جس میں ان کے دستخط اور انگوٹھا جات بھی ثبت ہیں جس میں انہوں نے ہمیں 40 کروڑ روپے کا ایک سٹور دینا تھا اور بقایہ 33 کروڑ 60 لاکھ روپے انہوں نے ہمیں دینے تھے معاہدہ کے مطابق الزام علیحان ہے ہمیں ٹوٹل 90 مرلے کی 10 رجسٹریاں دینی تھی جس میں سے دو رجسٹرا 17 مرلے رقبہ کی دے دی جبکہ جبکہ بقیات 73 مرلہ کی اٹھ رجسٹرا دینے سے صاف انکار کر دیا ۔

الٹاچور کوتوال کو ڈانٹے

ملزموں نے ہمیں مزید نقصان پہنچانے کے لیے ہمارے خلاف کسٹم کو کسٹم والوں کو مخبری کر کے ہمارے ایک دوسرے سٹور جس کا نام زین کول سٹوریج ہے اس میں ہمارے ڈیڑھ ارب کے مال کو غیر قانونی طور پر سیل کروا دیا جو ابھی تک وہ پڑا ہوا ہے ل۔

ہم وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور ائی جی اور ائی جی پنجاب جناب ڈاکٹر عثمان انور صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ ان لوگوں سے ہماری ریکوری یقینی بنائیں اور ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان ملزمان کو کٹہرے میں لایا جائے ہم لاہور بار لاہور ہائی کورٹ بار سے درخواست کرتے ہیں کہ یہ دو وکیل بدر بٹ اور جمیل بٹ جو آپ کے ممبرز ہیں لہذا ان کو آپ سمجھائیں کہ ہماری چوری شدہ رقم واپس کروا دیں۔ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم سی ایم ہاؤس کے سامنے دھرنہ دیں گے اور اس وقت تک بیٹھے رہیں گے جب تک ان لوگوں نسے ہماری رقم واپس  نہ دلوائی گئی۔

Caption چلغوزہ نباتاتی سونا ہے۔ اس  کی کاشت سے لے کر مارکیٹ میں فروخت تک لاتعداد پاکستانی روزگار کماتے ہیں۔ لاہور جیسے شہر میں  بانوے کروڑ روپے کے چلغوزہ کی چوری لاہور کے حکمرانوں کے لئے طعنہ ہے۔  ایسا ظلم تو جنگل میں بھی نہیں ہوتا کہ چوری ہو جائے اور پھر چوری کا پیسہ استعمال کر کے الٹا مدعیوں کو ہی ذلیل و خوار کیا جائے۔ 

سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے چلغوزہ ٹریڈرز ایسوسی ایشن  کے لیڈر نے بتایا کہ ملزموں کی ضمانتیں بھی نہیں ہوئی ہیں، وہ اشتہاری مفرور ہیں۔ 

سی آئی اے پولیس سے کیس ایف آئی اے سائبر کرائمز میں منتقل کروا لیا

بانوے کروڑ روپے کے چلغوزہ کی چوری اور جعلسازی کے مقدمہ کے مدعوی نے بتایا کہ ملزموں نے  ایک کیس سائنر کرائمز ونگ میں منتقل کروا لیا۔ انہوں نے کہا،  ہمارا کیس سائبر کرائم  میں  انڈر انویسٹیگیشن ہے  وہ  بندے تگڑے ہیں۔ وہ کیس کو سی آئی اے سے ٹرانسفر کر کے سائبر کرائم میں لے کر گئے،  ابھی وہ اپنے کیس کو کورٹ میں لے کے جانا چاہتے ہیں اور کورٹ میں آپ کو پتہ ہے  ۔ وہ  اشتہاری ہے۔

کروڑوں ، اربوں روپے کا چلغوزہ ایک کاروباری کا نہیں بلکہ سینکڑوں کاشتکاروں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے  بتایا کہ  یہ 37 بندوں کا  چلغوزہ ان کے نام کے اوپر رجسٹر ہے جو  (چلغوزہ) ہم (لاہور میں)  رکھتے ہیں، وہ  پیچھے سے سینکڑوں لوگوں کا  بھیجا ہوامال ہے۔  کیونکہ وہاں سے جب مال آتا ہے تو یہاں پہ میرے نام پر ایک  کھاتا بن جاتا ہے، جس میں میرے پیچھے  چلغوزہ بھیجنے والے بندے ہوتے ہیں؛  وہ 37 بندےکھاتے  والے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے پیچھے 15  یا 20، 20 بندے  (ان کو اپنا چلغوزہ دینے پر)  لگے ہوئے ہیں۔ 

ہم لوگ کسٹم والوں  کو (قانونی ادائیگی) روپے ادا  کرتے ہیں اس کے سارے ڈاکومنٹس موجود ہیں۔ اور پھر ہم اپنی  (خیبر پختونخوا ) گورنمنٹ سےفیڈرل منسٹر کو  ایک لیگل لیٹر بھی کروایا ۔  اور یہ آپ کے لاہور میں بھی-  ایف بی ار والوں کو بھی ( چلغوزے کی قانونی حیثیت کے متعلق خیبر پختونخوا حکومت کا خط لکھوایا)  لیکن پھر بھی وہ  (کسٹم اہلکار) اپنی بات پر مکر گئے ہیں۔

 ابھی کیس لگا ہوا ہے ٹریبیونل میں ساتھ؛ بالکل وہ کہہ رہے ہیں کہ "یہ مال سوٹ نہیں کرتا ، جو آپ کی لیگل ڈاکومنٹس ہیں اورآپ کا جو مال ہے۔ 

چلغوزہ ایسوسی ایشن کے لیڈر نے کسٹم اہلکاروں کی زیادتیوں کے بارے میں مزید بتایا کہ  اور دوسرا جو بہت بے بنیاد الزام تھوپا وہ یہ کہ  ایک ہمارے چلاس اور چترال کے لوگ ہیں ان پر یہ  اعتراض لگایا ہے کہ" آپ اس قابل نہیں ہیں کہ آپ اتنا بڑا کاروبار کریں"  آپ خود اندازہ لگائیں یہ کوئی اس کی جسٹیفیکیشن ہے ان کا

جو بدر بٹ والے ہیں جو سٹور کے مالکان ہیں انہوں نے تو ہمارے ساتھ ایک ایگریمنٹ کیا .  ایسوسی ایشن کے عہدیدار نے میڈیا  کے نمائندوں کو دکھاتے ہوئےکہا،   یہ دیکھو  یہ ایگریمنٹ کے اوپر اس کے سارے انگوٹے ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ    مال تو وہ  (ملزمان بدر بٹ وغیرہ) بیچ کے گئے ہیں۔  1400 بوری لے کے گئے ہیں۔  ان کے اپنے سٹور میں، ہم کو ان کو کرایہ دے رہے تھے، ہم عید پہ گئے ہوئے تھے، ہماری عدم موجودگی میں انہوں نے منصوبہ بندی کے ساتھ نوسر بازی اور چوری کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اب (بدر بٹ وغیرہ) کے پاس سب کچھ ہے، چار سٹور اور بنائے ہیں اربوں روپے مالیت  کے۔ ان کے پاس  پہلے ایک سٹور تھا ابھی اربوں روپے سے چار سٹور بنا لیے ہیں۔ 

چلغوزہ ٹریڈرز نے کہا کہ یہ پرفیکٹ نوسر بازی ہے ہم عید پہ گئے ہوئے تھے، انہوں نے ایک ڈرامہ رچایا ، آگ لگائی،  پھر جب ہم اگئے تو انہوں نے 400 بوری سیم (خراب چلغوزہ) اندر رکھا ہوا تھا۔ یہ ایسا مال ہے جو ہم کچرہ کہتے ہیں جس کی قیمت فی کلو 200 روپے یا 300 روپے بنتی ہے اور ہمارا جو 14 سو  بوری  اعلیٰ کوالٹی کا چلغوزہ  سٹور میں پڑا  ہوا تھا اس کی قیمت ا فی کلو 8 ہزار سے لے کر 10 ہزار تک  تھی۔  تو انہوں نے (تھوڑا سا خراب چلغوزہ اندر رکھ کر)  آگ لگائی، 1122 موقع پہ پہنچ گئے،آگ وہ اس طرح خراب چلغوزے کی بوریوں کو  لگی نہیں ہ تھی۔ عید کے بعد ہم جب واپس آ گئے  تو دو دن تک تو ان کو انہوں نے ہمیں روکا کہ آپ (سٹور کے)  اندر نہ آئیں۔ ، آپ کا مال ہمارے پاس محفوظ پڑا ہوا ہے۔  کوئی مسئلہ نہیں ہے، آپ کا مال تو  محفوظ ہے ۔

جب تیسرے دن ہمیں پتہ چلا کہ وہ شاد باغ تھانے میں ایف آئی آر کر واچکے ہیں۔  اپنے ایک منشی  کو مدعی بنایا ہے اپنے ایک لیبر کو انہوں نے ملزم ٹھہرایا ہے۔ 

 تو آپ کو پتہ ہے جب ایک ایف آئی ار کسی ایشو کے اوپر کٹ جاتی ہے دوسرا  اسی مسلہ پر ایف آئی آر آپ نہیں کر سکتے ۔

تو انہوں نے ایک پری پلین منصوبہ بنایا ہوا تھا اور ہمیں جب پتہ چلا کہ اندر تو  "سی مال" پڑا ہوا ہے۔  پہلے سی مال بالکل تھا ہی نہیں۔ 

انہوں نے سوال کیا،  ہمارے 1400 بوری کدھر گئے؛  18 کیمرے لگے ہیں،  20 آپ کے لیبر ہیں،  تین گارڈ گارڈز ہیں،  اور تین منشی ڈیلی صبح فرسٹ ٹائم آتے ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ۔۔۔ ہمارےآنے سے پہلے انہوں نے یکطرفہ انویسٹیگیشن کر کے منشی وغیرہ سے جھوٹی کہانی لکھی تھی۔ 

 جھوٹی ایف آئی آر کو لے کر انہوں نے پولیس کے سینئیر حکام سے شکایت کی، تحقیقات ہوئی تو  وہ ڈی ایس پی جو تھا  اس نے پھر اس ایف آئی آر میں انہوں نے ہمیں مدعی بنایا اور ان کو ملزم بنایا ۔

پھر جب تفتیش ہوئی تو اس میں وہ قصورار ٹھہرائے گئے ، انہوں نے ایپلیکیشن دے دے دی پھرانہوں نےکیس کو سی آئی اے میں ٹرانسفر کر دیا پھر سی ائی اے میں جب انویسٹیگیشن ہو ئی تو  آئی اے جو لاہور والے سٹی ہیں، کوتوالی میں وہاں پر جو تحقیقات ہوئی پھر اس میں بھی وہ قصورار پائے گئے۔ 

 اب یہ 10 یا 15 دن پہلے پھر جب ان کو پتہ چلا کہ یہاں پر ہم گلٹی ہو رہا ہے پھر انہوں نے پھر دوسری ایپلیکیشن دے دی کہ ہمارے کیس ہماری ریزرویشنز  ہیں، سی آئی اے پر، تو ہمارے کیس کو ٹرانسفر کریں۔ اب  وہ اسے سائبر کرائم میں لے جا رہے ہیں۔ 

وہ وکیل، تگڑے، کروڑوں کے مال کا معاملہ؛ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک!

ابھی کیس چلا گیا وہ اپنی فیور میں لانا چاہتے ہیں تو آپ کو پتہ ہی یہ ہے کہ،  کروڑوں کا مال کروڑوں کے روپے؛  وہ وکیل بھی ہے،  تکڑے بھی ہیں،  ہم تو پہلی دفعہ تھانے کچہری میں آئے ہیں۔ ابھی پہلی دفعہ ہمارا سامنا ہو رہا ہے تھانوں میں، کورٹوں میں،  اور ہم ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔