90 سال بعد انصاف،، یہ ہے پاکستان؟

90 سال بعد انصاف،، یہ ہے پاکستان؟
Justice was served by the Lahore High Court after 90 years

مانیٹرنگ ڈیسک:       لاہور ہائیکورٹ نے 91 سال پرانا زمین کے تنازع پر کیس کا  فیصلہ سنادیا۔عدالت نے نامو بی بی کی 119 کنال 11 مرلے کی زمین پر سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کردی۔

تفصیلات کے مطابق  جسٹس ساجد محمود نے 8صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کے مطابق وہ 1946سے1960 تک زمین پر قابض رہے۔ لیکن  یہ بات طے ہے کہ قبضہ چاہے کتنا ہی لمبا ہو وہ اصل مالک کے حقوق ختم نہیں کرسکتا۔ درخواست گزار کے مطابق انہوں نے زمین 14 ہزارروپے کے عوض خریدی، لیکن وہ اس ٹرانزیکشن کی تاریخ ،وقت اور سیل ایگریمنٹ دیکھانے میں ناکام رہے۔ 

جسٹس ساجد محمود نے فیصلے میں کہا   کہ کلیکٹر بہاولپور نے مارچ 1961 میں درخواست گزار کے خلاف فیصلہ سنایا اور اسے غیر قانونی قابض قرار دیا۔ٹرائل کورٹ نے 2011 میں گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد فیصلہ سنایا، سیشن کورٹ نے بھی  2015 میں  درخواست گزار کے خلاف فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار نے ایڈیشنل سیشن جج کے حکم کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

فیصلے میں  کہا گیا کہ فریق نمبر گیارہ بطور اے ڈی سی آر بہاولپور میں 1980 میں تعینات تھے، انہوں نے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار مالک ہونے کا کوئی قانونی نکتہ پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس نے بطور ثبوت جو اسٹام پیپر فراہم کیا اسکا ریکارڈ موجود نہیں ہے، درخواست گزار غیر قانونی قبضہ اور مالکانہ حقوق حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس نے غیرقانونی طور پر اختیارات سے تجاوز کیا جس پر  عدالت اس کی درخواست کو فوری مسترد کرتی ہے۔ جس پر لاہور ہائی کورٹ نے   نامو بی بی کی 119 کنال 11 مرلے کی زمین پر سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کردی۔