ویب ڈیسک : طالبان کی مورال پولیس نے ہرات میں خواتین کے لباس پر اپنی سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی ہیں، جس کے تحت ’مانتو‘ پہننے والی خواتین کو پبلک میں چلنے سے روکنا اور ہراساں کرنا شامل ہے۔
متاثرہ خواتین کے مطابق یہ پابندیاں 12 سے 70 سال کی خواتین پر لاگو کی جا رہی ہیں۔ ہرات کے مصروف علاقوں جیسے پل رنگینہ، سنیما اسکوائر، گولہا اسکوائر، درب عراق اور مستوفیات اسکوائر میں خواتین کی نگرانی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اہلکار خواتین کو بسوں، ٹیکسیوں اور رکشوں سے نیچے اتار دیتے ہیں اگر وہ مکمل برقع یا نماز کے پردے کے بغیر ’مانتو‘ پہن رہی ہوں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک پولیس اہلکار نے ایک ڈرائیور کو اس لیے تھپڑ مارا کیونکہ اس نے ’مانتو‘ پہنی خاتون کو گاڑی میں سوار کیا تھا۔ کچھ خواتین کو گولہا سکوائر میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر لے جایا گیا۔
متاثرہ خواتین نے کہا کہ وہ مکمل جسم ڈھانپنے والا حجاب پہنتی تھیں، مگر پھر بھی انہیں ہراساں کیا گیا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں بس سے اتار دیا گیا اور انہیں ایک گلی سے رکشے پر گھر جانا پڑا۔ مردوں نے بھی بتایا کہ ان کی 12 سالہ بیٹیوں کو ڈرایا گیا کہ وہ گھر سے بغیر برقع کے باہر نہ نکلیں۔
ایک شہری نے کہا کہ وہ تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے حراست میں رہا اور اس دوران کم از کم 15 خواتین کو بھی روکا گیا۔ گذشتہ برس طالبان نے ہرات میں خواتین بشمول طبی کارکنوں کو برقع نہ پہننے پر گرفتار اور مارا پیٹا تھا۔ حکومت کی خدمات بھی صرف برقع پہنی خواتین کو فراہم کی جاتی ہیں۔
اس دوران، کچھ خواتین اب بھی عربی اسٹائل کا حجاب اور مانتو پہن رہی ہیں۔
ماہرین اور مقامی ذرائع کے مطابق اس سختی کے اقدامات سے نہ صرف خواتین کی آزادی محدود ہو رہی ہے بلکہ شہر میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول بھی پیدا ہو رہا ہے۔ طالبان کے سخت رویے اور مورال پولیس کی کارروائیاں خواتین کی روزمرہ زندگی اور صحت کی سہولیات تک رسائی پر سنگین اثر ڈال رہی ہیں۔