ملک اشرف : پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نجکاری کے تمام اقدامات کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست نبیل جاوید کاہلوں ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں وفاقی حکومت، پی آئی اے کارپوریشن اور دیگر متعلقہ فریقین کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پی آئی اے قانون کے تحت سرکاری شئیرز کی فروخت ممکن نہیں ہے۔ 2023 میں قومی اسمبلی نے پی آئی اے کے شیئرزکی فروخت کے بل کو مسترد کر دیا تھا اور اس فیصلے کے بعد کابینہ کو بھی شئیرز کی فروخت کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ پی آئی اے کی فروخت سے قبل مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری حاصل نہیں کی گئی جبکہ نوسوارب روپے کی پی آئی اے کو 134 ارب روپے کی بولی کے ذریعے فروخت کی گئی۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو ملکی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے اور ساتھ ہی پی آئی اے کی ری سٹرکچرنگ کا حکم بھی جاری کرے۔