ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انٹی ریپ ایکٹ کیس،لاہور ہائیکورٹ کا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلیغ الزمان پر اظہار برہمی

 انٹی ریپ ایکٹ کیس،لاہور ہائیکورٹ کا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلیغ الزمان پر اظہار برہمی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : انٹی ریپ ایکٹ پر عمل درآمد کے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں کیس  کی سماعت , آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، ڈائریکٹر سائبر کرائم سمیت دیگر افسران پیش ,عدالت نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو طلب کر لیا ۔
عدالت نے زیادتی کا مقدمات میں میڈیکل کا پرفارما مزید بہتر کرنے کی ہدایت  کردی ,عدالت نے  انسداد جنسی زیادتی ایکٹ کو ضابطہ فوجداری کے مطابق ہم اہنگ کرنے کی ہدایت کی ، چیف جسٹس نے اینٹی ریپ ایکٹ کی بابت وفاقی حکومت کو خط لکھنے پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلیغ الزمان پر اظہار برہمی کیا  ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ  نے زیادتی کیس کے ملزم  سیلمان طاہر سمیت دیگر کی درخواستو ں پر سماعت کی ،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلیغ الزمان نے میڈیکل پرفارم کے متعلق رپورٹ پیش کی ، چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلیغ الزمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا جو رائے اپ وفاقی حکومت سے لینا چاہ رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ عدالت کی رائے اس سے مختلف ہو، چیف جسٹس ایکٹ کی جس دفعہ کی بابت اپ نے وفاقی حکومت کو خط لکھا وہ عدالتی فیصلے سے بھی تشریح ہو سکتا تھا ، بظاہر ایسے لگتا ہے کہ اپ پوری قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے لیے ائے ہیں، آپ آگئے ہیں ، پوری قوم کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگانے،  چیف جسٹس  مس عالیہ نیلم نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کو کیا بتایا نہیں گیا  کہ ایڈوکیٹ جنرل نے اپنی بحث  مکمل کرلی ہے،  ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلیغ الزمان نے جواب دیا کہ مجھے نہیں بتایا گیا ،  آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے عدالت کو بتایا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے ا وومن پولیس اسٹیشنز کی استعداد کار کو بڑھا رہے ہیں،عدالت نے آئی جی پنجاب کے کئے گئے اقدامات بارے  اطمینان کا اظہار  کیا ، آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ورچوئل پولیس سٹیشن میں دی گئی آیڈیو اور ویڈیو شہادتوں کو محفوظ بنایا جائے گا، آئی جی پنجاب قانون شہادت آرڈینس کے تحت اسے  ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کے لئے قابل استمال بنائیں گے ، چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا سال 2021کے قانون پر سال 2025 میں بھی عمل نہ ہورہااس کا ذمہ دار کون ہے۔اگر عدالت اس کانوٹس نہ لے تو اگلے دس سال تک بھی عمل درآمد نہیں ہونا, سماعت کے دوران ڈائریکٹر سائبر کرائم سید حشمت کمال ،پراسیکیوٹرجنرل سید فرہاد علی شاہ ، ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ ، ڈی آئی جی لیگل اویس ملک  ، اے آئی جی مانیٹرنگ ،سی پی او فیصل آباد سمیت دیگر پولیس افسران پیش ہوئے ، کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی گئی۔

Ansa Awais

Content Writer