ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹیکنالوجی کی ترقی کے  لئے پاکستانیوں کی ایک بڑی چھلانگ

Beep app, City42, inter departments communication app, city42 , PITB
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پاکستان ٹیکنالوجی کی ترقی کے  لئے ایک بڑی چھلانگ لگا رہا ہے۔ عنقریب پاکستانی شہری حیران کن ترقی  کے ثمرات سے فیض یاب ہو رہے ہوں گے۔

پاکستان نے  ریاستی امور میں تیز ترین اور محفوظ کمیونیکیشن کو یقینی بنانےکے لئے اپنے تمام سرکاری ملازموں  کو اپنی ریاست کی بنائی کوئی میسیجنگ ایپ  پر لانے کا انقلابی فیصلہ کر لیا ہے، اس فیصلہ پر عملدرآمد کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔

تمام  سرکاری اداروں کے ملازم اب وٹس ایپ جیسی  میسیجنگ ایپلی کیشن کی بجائے صرف حکومت کی فراہم کردہ نئی جدید ترین میسیجنگ ایپ استعمال کرین گے۔ اس نئی ایپ کا بنیادی مقصد پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں سرکاری انفارمیشن کو ہر سورت میں مھفوظ رکھنا ہے۔

پاکستان کی اپنی  میسیجنگ ایپ کا نام  بِیپ /‘بی ای ای پی’  رکھا گیا ہے اور اس ایپ کو بہت جلد لانچ کرنے کا فیصلہ کیا  گیا ہے۔ Beep کے نام سے ایک سے زیادہ میسیجنگ ایپ پہلے سے ہی گوگل پلے پر دستیاب ہیں جن میں سے ایک کسی انڈین کی ملکیت ہے۔  لیکن یہ واضح نہیں کہ پاکستان کی سرکاری سطح پر بنائی گئی ایپ کو کسی ایپس سٹور پر بھی رکھا جائے گا یا اس کی دسٹریبیوشن کا حکومت کی سطح پر کوئی انتظام کیا جائے گا۔

بیپ پاکستان (کمیونیکیشن ایپ) کی ملکیت  حکومت پاکستان کی ہے اور اس کے ڈویلپر نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) کے انجینئیر ہیں۔
سرکاری اہلکاروں کے لیے WhatsApp ک جیسی ایپلیکیشنز کے ایک محفوظ، مقامی طور پر تیار کردہ متبادل کے طور پر ڈیزائن کی گئی اس ایپ کو چین کے WeChat کے طرز پر  بنایا گیا ہے۔ دسمبر 2025 تک، یہ وفاقی وزارتوں میں مرحلہ وار رول آؤٹ سے گزر رہا ہے اور 30 ​​جون 2026 تک اس کے  مکمل آپریشنل ہونے اور تمام سرکاری ملازموں کے زیر استعمال ہونے  کی توقع ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی بنائی ہوئی اپنی میسیجنگ ایک  ‘بیپ’ یا ‘بی ای ای پی’ ایپ متعارف کرانے کےلیے تیار ہے اور اس منصوبہ کی ڈیڈ لائن 30 جون 2026 مقرر کی گئی ہے، کمیٹی کے چیئرمین سید امین الحق نے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل رتیال کو ہدایت کی ہے کہ وہ (BEEP) کی بروقت تیاری یقینی بنائیں۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ مذکورہ ایپلیکیشن مقامی طور پر تیار کی گئی ہے اور یہ تمام متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے تصدیق شدہ ہے۔

نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو فیصل رتیال نے بتایا کہ BEEP کو شروع کرنے کا مقصد سرکاری شعبے کے ملازمین کو ملک بھر میں ایک محفوظ پیغام رسانی کا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایپ کو مرحلہ وار شروع کیا جائے گا، ‘بیپ’ ایپ کے استعمال کی شروعات وفاقی وزارتوں اور منسلک محکموں سے ہوگی۔

سی ای او این آئی ٹی بی نے کہا کہ اس ایپ کا رول آؤٹ اگلے دو مہینوں میں شروع ہونے کی توقع ہے اور اسے وفاقی ای-آفس سسٹم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ سرکاری اداروں کے اندر محفوظ پیغام رسانی، دستاویز کی تقسیم اور ورک فلو کوآرڈینیشن کو ممکن بنایا جاسکے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں تیار کردہ ‘بیپ ایپ’ ٹیکسٹ میسجنگ اور سرکاری اہلکاروں کے ذریعے استعمال ہونے والی ویڈیو کالز کے لیے مکمل انکرپشن کے ساتھ مضبوط حفاظتی خصوصیات پیش کرتا ہے۔

کمیٹی نے اس سے قبل 2024 میں عالمی تنازعات کے دوران پیش آنے والے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیٹا اور آفیشل کمیونیکیشن کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا تھا، تاہم اب ایپ میں نئی خصوصیات شامل کی گئی ہیں۔

فیصل رتیال نے این اے پینل کو بتایا کہ ‘بیپ’ ویڈیو کمیونیکیشن تک اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو بڑھاتا ہے اور یہ حساس حکومتی بات چیت کے لیے موزوں ہے۔

BEEP کی آپریشنل لاگت کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے فیصل رتیال نے کہا کہ مذکورہ ایپ کو استعمال پر مبنی فیس ماڈل پر چلایا جائے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ پلیٹ فارم کو مالی طور پر خود کفیل بنانے کا عمل بھی جاری رہے گا۔