ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

روس نے افغان طالبان کو  دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

روس نے افغان طالبان کو  دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا
کیپشن: File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  روس نے افغان طالبان کو  دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق  روس کی سپریم کورٹ  نے روسی  پراسیکیوٹر جنرل کی درخواست پر طالبان پر روس کی جانب سے  دہشتگردی مین ملوث قرار پانے کے سبب عائد  پابندی معطل کردی ہے۔

 روس نے 2003 میں افغان طالبان کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

روس کی جانب سے عائد پابندی ختم ہونے سے ماسکو اور افغان قیادت کے تعلقات بہتر ہونےکی راہ ہموار ہونےکا امکان ہے۔

طالبان نے امریکہ اور نیٹو کی فوج کے اچانک افغانستان چھوڑ دینے کے بعد  2001 میں کابل پر دوبارہ قبضہ کر کے اپنی حکومت بنائی تھی لیکن تب سے اب تک کوئی بھی ملک  طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم  افغانستان کی سٹریٹیجک پوزیشن کے سبب اہم طاقتین اسے نظر انداز نہیں کر سکتیں۔  امریکہ طالبان کو ماہانہ امداد دے رہا ہے اور روس بتدریج طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا ہے۔

گزشتہ برس روس کے صدر پیوٹن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں طالبان کو اتحادی بھی قرار دے چکے ہیں۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ  افغانستان سے مشرق وسطیٰ تک کئی ممالک میں موجود شدت پسند گروپوں سے لاحق  سکیورٹی خطرات کے پیش نظر طالبان کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔

مارچ 2024 میں  مبینہ طور پر داعش کےمسلح افراد نے ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ ہال میں حملہ کر کے 145 افراد کو ہلاک کر دیا تھا، اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس انٹیلیجنس اطلاع  ہے کہ حملے کے پیچھے گروپ کی افغان شاخ داعش خراسان  ملوث تھی۔

طالبان کا کہنا ہےکہ وہ افغانستان میں داعش کے خاتمےکے لیےکام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مغربی سفارت کاروں کا مؤقف ہےکہ طالبان کو  بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانےکا راستہ اس وقت تک رکا رہےگا جب تک وہ خواتین کے حقوق سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتے۔