ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انڈیا میں مسلم وقف بورڈ ایکٹ ترامیم، سپریم کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر دیا

City42, Muslim Evacue Act amendments , Awaisi , Supreme Court of India
کیپشن: File Photo انڈیا کی سپریم کورٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت کی مسلم وقف ایکٹ میں ترامیم کے خلاف درخواستوں کی ابتدائی سماعت میں حکم امتناعی جاری کر کے وقف بورڈ کے کاموں میں کسی بھی تبدیلی کو روک دیا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: انڈیا میں مسلم وقف ایکٹ میں ترمیم پر تنازعہ بڑھ گیا۔ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا جہاں سپریم کورٹ نےبی جے پی کی مرکزی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

انڈیا کی سپریم کورٹ میں  وقف قانون 2025 سے متعلق آج مسلسل دوسرے دن سماعت ہوئی۔ مرکزی حکومت نے عدالت سے جواب داخل کرنے کے لئے سات دنوں کا وقت مانگا تھا، جو عدالت نے دے دیا ہے۔آج عدالت نے عبوری حکم دیتے ہوئے وقف کونسل اوروقف بورڈ میں کسی بھی تقرری پرروک لگا دی ہے۔ عدالت میں آج کی سماعت پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے چیف اسدالدین اویسی کی طرف سے بڑا بیان آیا ہے۔

حیدراآباد کے ایم پی اسدالدین اویسی نے کہا کہ ہم اس ایکٹ کوغیرآئینی مانتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سینٹرل وقف کونسل اورسٹیٹ وقف بورڈ کی تشکیل نہیں کی جائے گی اوروقف بائی یوزرکوہٹایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے اس دوران یہ بھی کہا کہ وقف امینڈمنٹ ایکٹ کے خلا ف ان کی قانونی لڑائی جاری رہے گی۔ اویسی کی طرف سے بھی عدالت میں عرضی داخل کرکے ایکٹ کوغیرآئینی قرار دیا گیا ہے۔

 وقف ایکٹ میں ترمیم آرٹیکل 14, 15, 25 اور26 کی خلاف ورزی کی ہےاویسی

سپریم کورٹ میں وقف قانون کی سماعت پر اسدالدین اویسی نے کہا کہ وہ اس ایکٹ کوغیرآئینی مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے پی سی کی بحث کے دوران میں نے حکومت کی طرف سے مجوزہ سبھی ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے ایک رپورٹ دی تھی۔ پارلیمنٹ میں بل پربحث کے دوران میں نے بل کوغیرآئینی بتایا تھا۔ یہ آرٹیکل 14, 15, 25 اور26 کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس ایکٹ کے خلاف ہماری قانونی لڑائی جاری رہے گی۔


 کوئی وقف ڈی نوٹیفائی نہیں ہو گا، سپریم کورٹ کا عبوری حکم امتناع کا  فیصلہ

وقف قانون سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سالسٹر جنرل کے اس بیان کو ریکارڈ میں لیا کہ مرکزی حکومت 7 دنوں کے اندر جواب داخل کرے گی۔ اس دوران جو پہلے تھا ویسا ہی رہے گا۔ سالسٹرجنرل نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگلی سماعت کی تاریخ تک وقف جس میں پہلے سے رجسٹرڈ یا نوٹیفکیشن کے ذریعہ ڈکلیئروقف شامل ہیں، کو نہ تو ڈی نوٹیفائی کیا جائے گا اور نہ ہی کلکٹرکو بدل جائے گا۔

وقف ایکٹ پرآئندہ سماعت 5 مئی کو ہوگی

سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو 7 دنوں کے اندر جواب داخل کرنا چاہئے۔ وہیں، وقف ایکٹ پراب اگلی سماعت 5 مئی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ عدالت میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف 73 سے زیادہ عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ وہیں، عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت پران میں سے 5 عرضیوں کی بنیاد پر ہی سماعت ہوگی۔ باقی عرضیوں کو درخواست کے طور پر سامنے رکھا جاسکتا ہے۔