ٹی ایل پی کی دہشتگردی کی حمایت میں تقریر کرنے پر پی ٹی آئی کی سیمابیہ طاہر اور دیگر افراد پر دہشت گردی کا مقدمہ درج ہو گیا۔
سمابیہ طاہر پر درج کی گئی ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ اڈیالہ روڈ پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران سیمابیہ طاہر نے دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی کی اور گولی چلانے کا سوال کیا۔
پاکستان تحریک انصاف کی رسابق رکن اسمبلی سمابیہ طاہر سمیت دیگر کے خلاف ٹی ایل پی کےتشدد کی حمایت کرنے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق راولپنڈی اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت کے دوران جیل کے قریب پی ٹی آئی کی "عوامی اسمبلی" منقعد کرنے اور اُس میں ٹی ایل پی کے تشدد کی حمایت میں تقریر کرنے پر سمابیہ طاہر سمیت دیگر کے خلاف مقامی پولیس افسر کی مدعیت میں راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی میں انسداد دہشت گردی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
سب انسپکٹر محمد عمران کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لیے خصوصی ڈیوٹی پر تھے، اڈیالہ روڈ پر واقع نجی فیکٹری کے قریب ہی ٹی آئی کی سابق ایم پی اے سمابیہ طاہر نے تقریر کرتے ہوئے زبانی قرارداد پیش کی، جس میں 17 جون، 25 مئی، 26 نومبر اور ٹی ایل پی کے شیخوپورہ میں تشدد کے واقعات کا حوالہ دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ خاتون سابق ایم پی اے کی تقریر کا متن انتہاہی حساس اور سنگین نوعیت کا ہے، ایسا کرکے سیمابیہ طاہر نے تعصب کو فروغ دیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی ہتک عزت کے ساتھ انکی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد سمیابیہ طاہر سمیت دیگر کی گرفتاری کیلیے کوشش شروع کر دی۔