ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 نیتن یاہو شرم الشیخ سربراہی کانفرنس میں کیوں نہیں پہنچے، اسرائیل سے نئی وجہ سامنے آگئی

 Netanyahu, Sharam El Sheikh, City42, Prime Minister Shahbaz, Gaza ceasefire , Palestine Peace ,
کیپشن: نیتن یاہو خواہ کسی بھی وجہ سے شرم الشیخ سمٹ سے دور رہے ہیں، ان کی غیر موجودگی میں فلسطین کے مستقبل کے متعلق اس اہم تقریب میں صدر ٹرمپ کے بعد  ایک نمایاں ترین ہستی پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو خود صدر ٹرمپ نے بھی دوسرے سربراہوں سے زیادہ  پرجوش ریسیپشن دیا۔ نیتن یاہو وہاں موجود ہوتے تو وزیراعظم شہباز  زیادہ کھل کر وہاں انٹرایکشن نہ کر پاتے۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ایک اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ الٹرا آرتھوڈوکس قانون سازوں کو ناراض کرنے سے بچنے کے لیے نیتن یاہو شرم الشیخ سربراہی اجلاس سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو 15 اکتوبر 2025 کو اپنے بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے لیے تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ پہنچے۔ (ریوین کاسترو/POOL)
ٹائمز آف اسرائیل نے ایک سینئیر اہلکار کو یہ انکشاف کرتے رپورٹ کیا ہے کہ  وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو مذہبی اتحاد کے اراکین کو ناراض کرنے سے بچنے کے لیے شرم الشیخ میں پیر کے اجلاس سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

"ہم نے اس وجہ سے سفر نہیں کیا کہ چھٹی آنے والی تھی،" سبت تورہ کی چھٹی کے بارے میں اہلکار کہتے ہیں، جو شام 6 بجے کے قریب شروع ہوئی تھی۔ پیر کی شام، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کنیسٹ میں تقریر کے فوراً بعد۔

"یہ صرف وقت کے ساتھ چلا گیا،" اہلکار کہتے ہیں. "ہم جانا چاہتے تھے، ہم نے جانے کا ارادہ کیا لیکن ہوا یہ کہ تقریریں ہوتی رہیں، ٹرمپ جن کا ایک گھنٹے سے زیادہ بولنے کا پروگرام نہیں تھا، ایک گھنٹے سے زیادہ بولے، وزیر اعظم تقریباً ایک گھنٹہ بولے، کنیست اسپیکر نے تقریباً ایک گھنٹے تک بات کی۔"

"ہمارے پاس دوسرے لوگ بھی ہیں جن کا ہمیں مذہبی معاملات میں احترام کرنے اور ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔"  اس سینئر عہدیدار نے ممکنہ طور پر الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "وہ اتحاد کا حصہ ہیں اور ہمیں اس کو مدنظر رکھنا ہوگا۔"

Caption پرائم منسٹر شہباز شریف شرم الشیخ سمٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دائیں طرف کھڑے ہیں۔

شرم الشیخ سمٹ میں نیتن یاہو کے نہ جانے کی کنٹروورسی

نیتن یاہو حکومت کے اس اہلکار کا کہنا ہے کہ غزہ کے مستقبل پر سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کا فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ تصویر کھنچوانے سے بچنے کی خواہش سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

"ہمیں معلوم تھا کہ ابو معزن وہاں موجود ہوں گے،"  محمود عباس کے کنیتی نام کا استعمال کرتے ہوئے، ابتدائی طور پر شرم الشیخ جانے کے لیے رضامندی کا فیصلہ کرنے والے اہلکار کہتے ہیں۔ "یہ بالکل درست نہیں ہے۔ ابو مازن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" فلسطین کے صدر محمود عباس کے بڑے بیٹے کا نام معزن ہے، جس کا انتقال2002ء میں ہوا۔

Caption شرم الشیخ سربراہی اجلاس کے میں شریک عالمی لیڈروں کا گروپ فوٹوبنا تو وزیراعظم شہباز شریف کو  گروپ کے عین وسط میں کھڑا کیا گیا۔

ٹرک میڈیا کی نیتن یاہو کے شرم الشیخ سے دور رہنے کے متعلق رپورٹیں

شرم الشیخ مین سربراہی اجلاس کے آغاز سے پہلے رک میڈیا نے اطلاع دی تھی  کہ صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو شرم الشیخ میں ہونے والی غزہ سمٹ میں شرکت سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ٹرک میڈیا میں شائع ہونے والے ان اکاؤنٹس کے مطابق، صدر  ایردوان نے نیتن یاہو کی شرکت کے خلاف فعال طور پر دباؤ ڈالا اور ایک موقع پر اپنے طیارے کو مصر میں اتارنے سے انکار کر دیا جب تک کہ انہیں یہ تصدیق نہ ہو جائے کہ نیتن یاہو شرکت نہیں کریں گے۔

Caption  صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین میں اپن کے معاہدہ پر دستخط کر رہے ہیں۔

ابتدا میں میڈیا کو بتایا گیا تھا کہ نیتن یاہو بھی شرم الشیخ سربراہی اجلاس میں آ رہے ہیں لیکن بعد میں کسی واضح وجہ کے بغیر اسرائیلی حکام نے بتایا کہ وہ شرم الشیخ نہیں جا رہے۔ اب اسرائیلی اہلکار نے اس نہ جانے کی یہ توجیہہ کی ہے کہ  دراصل وہ سبت کے سبب سفر کرنے سے گریز کر رہے تھے، کیونکہ ان کی اتحادی جماعتیں سبت کے دوران سفر کرنے کو غلط  سمجھتی ہیں۔

اردوان کا الٹی میٹم: ترک نیوز آؤٹ لیٹ Türkiye Today نے ایک کالم شائع کیا جس میں حکمران جماعت کے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر  صدر اردوان کے  قاہرہ کیلئے فضائی سفر کے دوران  پیش آنے والے واقعات  کی تفصیل ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، ایردوان کو پرواز میں نیتن یاہو کی شرم الشیخ سمٹ میں  ممکنہ موجودگی کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا اور انہوں نے اسے روکنے کا فوری، ناقابلِ سمجھوتہ حکم دیا تھا۔ مبینہ طور پر ایک "پلان بی" بھی تیار کیا گیا تھا کہ اگر نیتن یاہو شرکت کرنے پر اصرار کریں تو ترک وفد وطن واپس آجائے۔
قاہرہ اترنے سے انکار: نیتن یاہو کو مدعو کیے جانے کے اعلان کے بعد، ترک میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایردوان کے طیارے نے شرم الشیخ میں اپنی لینڈنگ میں تاخیر کی۔ ترک میڈیا کے اکاؤنٹس کے مطابق صدر اردوان کا  طیارہ بحیرہ احمر کے اوپر چکر لگاتا رہا جب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو گئی کہ اسرائیلی وزیر اعظم وہاں موجود نہیں ہوں گے، یہ طیارہ قاہرہ کی طرف نہیں بڑھا۔
ایک ترک عہدیدار سے تصدیق: ایردوان کی حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے ایک عہدیدار نے صدر کے پر عزم موقف کی تصدیق کی۔ اہلکار نے کہا، "ہمارے صدر نیتن یاہو کے ساتھ ایک ہی فوٹو فریم میں ہونا کبھی قبول نہیں کریں گے۔ وہ ایک ہی سربراہی اجلاس میں ہونا قبول نہیں کریں گے۔ وہ ایک ہی میز پر ہونا قبول نہیں کریں گے"۔
ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے: ترک میڈیا کی رپورٹس میں سفارتی ذرائع اور صحافیوں کا حوالہ دیا گیا تاکہ اس بیانیے کی حمایت کی جا سکے کہ ترکی کا سفارتی دباؤ اور ایردوان کا ذاتی موقف نیتن یاہو کے شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے اہم عوامل تھے۔

Caption وزیراعظم شہباز شریف اور فلسطین کے صدر  ابو معزن محمود عباس کے مصافحہ کا منظر
Caption صدر محمود عباس اور وزیراعظم شہباز شریف نے شرم الشیخ سمٹ کے دوران مختصر وقت میں سیر حاصل تبادلہِ خیال کیا جس کا مرکزی نکتہ فلسطینیوں کی قربانیوں کے شایانِ شان فلسطین کے مستقبل کی منصفانہ تعمیر تھا۔ 


متضاد اور متبادل رپورٹس
ترک میڈیا  میں ہی تاہم، اس ضمن میں متبادل یا متضاد معلومات  بھی سامنے آئیں۔

حکومت سے منسلک اخبار: حکومت کے حامی اخبار حریت کے مطابق، ایردوان کے طیارے نے قاہرہ ائیرپورٹ پرتکنیکی "رن وے کے مسئلے" کی وجہ سے اپنی لینڈنگ روک دی تھی۔ اس رپورٹ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ طنارے کا (لینڈنگ کی  بجائے) چکر لگانا ایک سیاسی چال تھی۔

اسرائیل کی سرکاری وجہ: واضح رہے کہ نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ سمٹ تورات کی یہودی تعطیل کے ساتھ اتفاق کی وجہ سے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

سبت کے دوران کام نہ کرنے کی پابندی

سبت تورہ یہودی مذہب کے حکم کے تحت ہفتہ وار چھٹی ہے جو جمعہ کی شام سورج ڈھلنے کے ساتھ آغاز ہو جاتی ہے اور ہفتہ کی شام سورج ڈھلنے تک رہی ہے۔ اس چھٹی کے دوران کوئی "کام" نہیں کیا جاتا کیونکہ تورات کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سبت کے روز آرام کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس جواز کو لے کر نیتن یاہو شرم الشیخ نہیں گئے جہاں صدر ٹرمپ تو موجود تھے ہی ان کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سمیت اسلامی دنیا کی اہم ترین شخصیات بھی تھیں اور محمود عباس بھی تھے۔ 

عمومی پریکٹس

سبت اہم حکومتی سرگرمیوں کے دوران رکاوٹ نہ بنے اس کے لئےاسرائیل میں خاص اہتمام کیا جاتا ہے جو زیادہ دشوار نہیں ہوتا، جو کام سبت کے دوران نہیں کئے جا سکتے انہیں پہلے ہی ترتیب دیا جاتا ہے کہ سبت کاموں  کے بہاؤ میں رکاوٹ نہ بنے۔ جب  سبت کی چھٹی کسی اہم سفارتی نوعیت کی سرگرمی کے لئے سفر کرنے میں حائل ہو رہی ہو تو عام پریکٹس ہے کہ سفر سبت کے آغاز سے پہلے شیدول کر لیا جاتا ہے، نیتن یاہو کے شرم الشیخ جانے کے معاملہ میں ایسا نہ کیا جانا ایک سوال ہے۔