ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ترقی کے عروج سے پھسل کر جہالت کی دلدل میں غرق ہونےوالا شہر

Polio Vaccination refusal cases, polio eradication campaign, Polio in Pakistan
کیپشن: کراچی شہر کا ایک فضائی منظر، یہ بات ناقابلِ تصور ہے کہ کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر مین لوگ پولیو ویکسین بچوں کو دینے سے انکار کر رہے ہین، لیکن یہ انکار حقیقت ہے اور انکار کرنے والوں کی تعداد ہر مہینے بڑھ رہی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: دنیا ہائیپر سونِک میزائلوں سے بھی زیادہ رفتار سے ترقی کر رہی ہے لیکن پاکستان کے لوگ اسی رفتار سے جہالت کی دلدل میں غرق ہوتے جا رہے ہیں۔ اس جہالت کا ایک اذیت ناک مظہر پاکستان کے ترقی یافتہ ترین علاقہ میں بار بار سامنے آ رہا ہے۔

ہر ہاتھ میں موبائل فون ہے جس میں انفارمیشن کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے  لیکن بیشتر  پاکستانی اس موبائل فون سے بھی صرف خالص جہالت کشید کر کے صبح شام، دن رات پی رہے ہیں؛ اس جہالت کا اظہار کراچی میں  ہو رہا ہے جہاں لوگ اپنے بچوں کو پولیو کی ویکسین نہیں پلا رہے، ہزاروں بچوں کے باپ اور مائیں پولیو سے بچانے والی ویکسین پلانے سے انکار کر چکے ہیں۔ کراچی بظاہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور کسی زمانے میں یہ پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر بھی تھا۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای سی او )  کے مطابق مئی کی انسداد پولیو مہم کے دوران 37 ہزار 711 والدین نے اپنے بچوں کی پولیو ویکسی نیشن سے انکارکیا جب کہ  اپریل میں 37 ہزار 360 والدین نے انسداد پولیو ویکسی نیشن سے انکار کیا تھا۔

   ای سی او  نے بتایا کہ مئی میں کراچی کے ضلع ایسٹ میں سب سے زیادہ 9433،  ضلع وسطی میں 7141،ضلع جنوبی میں 3145، ضلع غربی میں 2922 ،  کیماڑی میں17011، کورنگی میں 3453 اور ملیر میں4606  والدین نے اپنے بچوں کو پولیو ویکسین دینے سے انکار کیا۔

پولیو باقی دنیا مین ختم کی جا چکی ہے لیکن افغانستان اور پاکستان جہالت کے وہ سمندر ہیں جہاں اب بھی پولیو کا وائرس گھروں مین استعمال ہونے والے پانی میں سے نکلتا ہے۔ پولیو کی ویکسین پلانے سے انکار پہلے صرف مخصوص سماجی پس منظر کے حامل پختون علاقوں میں ہوتا تھا، ان علاقوں مین انکار کی وجوہات تقریباً افغانستان جیسی تھیں، ان چند علاقوں کے سوا پاکستان بھر میں پولیو کو تقریباً ختم کر دیا گیا تھا، پھر  جہالت  کے پھیلاؤ کے ساتھ پولیو کا وائرس بھی مخصوص پختون آبادی کے علاقوں سے نکل کر پاکستان بھر میں پھیل گیا اور اب حال یہ ہے کہ سب سے بڑے صنعتی شہر مین سب سے زیادہ ریفیوزل کیس آ رہے ہیں۔ 

حکام کا خیال ہے کہ پولیو کےخاتمے کے لیے والدین کے مسلسل تعاون کی ضرورت ہے۔

 پولیو کے خطرے سے دوچار یونین کونسلز پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ویکسین سے انکار کی بڑی وجوہات غلط فہمیاں اور آگاہی کی کمی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت آغاہی پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے لیکن آگاہی کی کمی بڑھتی ہی جاتی ہے۔