ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ممتاز شاعر کے قتل کا معمہ حل ہو گیا، دو گرفتاریاں

Akash Ansari, Sindhi Poet, City42
کیپشن: سندھی زبان کے شاعر آکاش انصاری کو قتل کیا گیا، پولیس نے لے پالک بیٹے اور ڈرائیور کر گرفتار کر لیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: ممتاز شاعر کی گھر میں جلی ہوئی لاش سامنے آنے کے ایک ہی روز بعد انکشاف ہوا ہے کہ انہین قتل کر کے لاش کو جلایا گیا تھا۔

حیدرآباد پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ سندھی زبان کے ممتاز  شاعر ڈاکٹرآکاش انصاری قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو جلایا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ آکاش انصاری اپنے گھر میں آگ لگنے سے جل کر فوت ہو گئے۔ 

حیدر آباد کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر فرخ علی لنجار نے انکشاف کیا کہ اب تک کی تحقیقات میں پتہ چکا ہے  کہ ڈاکٹرآکاش انصاری کی موت حادثاتی نہیں ہے، ڈاکٹرآکاش انصاری کوقتل کیاگیا اور مزید تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی نہیں ملی لیکن ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ یہ حادثاتی موت نہیں ہے۔

 یہ انکشاف بھی ہوا کہ آگ صرف آکاش انصاری کے کمرے میں ہی لگی تھی جبکہ پوسٹ مارٹم میں آکاش انصاری کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے، جس کے لیے بظاہر تیز دھار آلہ استعمال کیا گیا۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ قتل کرنے کے بعد ڈاکٹر آکاش کی لاش کو جلایا گیا، والد اور لے پالک بیٹے کے درمیان پہلے بھی مسائل رہےہیں۔

 گزشتہ روز خبر سامنے آئی تھی کہ حیدرآباد گھر میں آگ لگنے سے شاعر آکاش انصاری کے جاں بحق ہوگئے تھے۔ 

ابتدائی ملاحظہ میں ان کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائےگئے جس کےلیے بظاہر تیز دھار آلہ استعمال ہوا۔

آکاش انصاری  کیس میں بیٹا اور ڈرائیور گرفتار

پولیس نے  ابتدائی تحقیقات کے بعد آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے لطیف آکاش اور ڈرائیور کو  گرفتار کرلیا تھا۔

ان گرفتاریوں کے بعد گھر میں آگ لگنے سے جھلس کر جاں بحق سندھی کے نامور شاعر آکاش انصاری کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہیں۔

پولیس کے مطابق آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے لطیف آکاش نے کہا تھا کہ آگ لگنے کا واقعہ صبح ساڑھے 8 بجے کے قریب پیش آيا، کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو دیکھا کہ ڈاکٹر آکاش بیڈ سے نیچے گرے ہوئے تھے،اس نے  اندر کمرے میں جانےکی کوشش کی تو اس کے پاؤں جل گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آکاش انصاری نے اپنے لے پالک بیٹے کے خلاف گزشتہ برس مقدمہ بھی درج کرایا تھا لیکن بعد میں اس سے صلح ہوگئی تھی۔

 

ڈاکٹرآکاش انصاری کے شعری مجموعوں میں 'ادھورا ادھورا' اور 'کین رھاں جلا وطن' شامل ہیں جبکہ انہیں شیخ ایاز اور استاد بخاری کے بعد جدید سندھی شاعری میں سب سے زیادہ عوامی مقبولیت پانے والا شاعر بھی کہا جاتا ہے۔