ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یونی ورسٹی کی سینئیر سٹوڈنٹ کر ہراساں کرنے والے لیکچرر کو ہتھکڑی لگ گئی

University of Malakand, harassment, City42, crimes against women,s
کیپشن: ملاکنڈ یونی ورسٹی میں سٹوڈنٹس کو بہانے بہانے سے ہراساں کرنے والے مطالعہ پاکستان کے لیکچرر کو سینئیر سٹوڈنٹ کی شکایت پر آخر کار ہتھکڑی لگ گئی۔ یونی ورسٹی انتظامیہ نے سٹوڈنٹس کی شکایات کو مسلسل نظر انداز کیا جس کے بعد ئہ شکایات مقامی تھانے تک پہنچیں۔ گرفتار لیکچرر کی فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  مالاکنڈ  میں مطالعہ پاکستان چھٹے سمیسٹر کی سٹوٖڈنٹ کو ہراساں کرنے کے نتیجہ میں لیکچرر کو ہتھکڑی لگ گئی۔ 

ہریسمنٹ سے عاجز آ کر سکستھ سمیسٹر کی سٹوڈنٹ نے پولیس سٹیشن جا کر ایف آئی آر درج کروا دی تھی جس کے بعد پولیس کو قانونی کارروائی کرنا پڑی۔ 

 پل چوکی لیویز تھانہ میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد   پولیس نے لیکچرر  کے موبائل فون سے وِکٹم سٹوڈنٹ کی تصویر برآمد کر لی اور لیکچرر کو ہتھکڑی لگا کر تھانے لے گئے۔ 

چک درہ کے میڈیا ذرائع بتا رہے ہیں کہ ملاکنڈ یونی ورسٹی کی انتظامیہ نے ساپنی سٹوڈنٹ کے ساتھ ہونے والی اس سنگین نوعیت کی ہریسمنٹ کو چھپانے اور خبیث حرکت میں ملوث لیکچرر کو سپورٹ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن سٹوڈنٹ کے تھانے چلے جانے کے بعد انتظامیہ بے بس ہو گئی اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت میں ملوث لیکچرر کو ہتھکڑی لگ گئی۔ اس  لیکچرر  کی اپنی تصویر کو ہر جگہ ڈسکس کیا جا رہا ہے۔  

 ایف آئی آر میں چھٹے سمیسٹر کی سٹوڈنٹ نے بتایا کہ یونیورسٹی کےکئی لیکچرر فی میل سٹوڈنٹس کو مختلف طریقوں سے دعوت گناہ کی فرمائش کرتے تھے۔

مطالعہ پاکستان کے لیکچرر عبدالحسیب کی کئی سٹوڈنٹس نے شکایات کیں لیکن یونی ورسٹی کی انتظامیہ شکایات پر کبھی کوئی کارروائی نہیں کر رہے تھے۔  

 "پاکستان سٹیڈیز" پڑھانے کی تنخواہ لینے والے اس بدکردار شخص کے فون سے فی میل سٹوڈنٹس کو اکسایا جاتا رہا کہ وہ اسے پورنو تصاویر بھیجیں تو وہ انہیں سمیسٹرز کے امتحانات میں بہتر مارکس دے گا۔ ان  اکسانے والے میسجز کا انتظامیہ کو پتہ تھا لیکن فی میل سٹوڈنٹس کو تحفظ دینے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔ 

تھانے جا کر ایف آئی آر درج کروانے کی جرات کرنے والی سٹوڈنٹ نے بتایا کہ اس نام نہاد استاد کے مسلسل ہراساں کرنے کے رویئے کے باعث لڑکیاں ذہنی مریض بن گئی ہیں۔

سٹوڈنت نے انگلش زبان میں اپنی تحریری شکایت میں مزید بتایا کہ اس پروفیسر نے میرے گھر آکر مجھے اغوا  کرنے کی کوشش بھی کی۔

تھانے میں بے عزتی ہو جانے اور شہر بھر میں یونیورسٹی کی بدنامی ہو چکنے کے بعد بے حسی کے پہاڑ پر بیٹھی یونیورسٹی انتظامیہ نے  ملزم عبدالحسیب  کو  محض معطل کیا ہے۔

اب یونی ورسٹی انتظامیہ نے فیس سیونگ کے لئے ہراسمنٹ کمیٹی  کو پہلے سے بھیجی گئی شکایات کا جائزہ لینے کا بھی بتایا ہے۔ 

  یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ "الزامات درست ثابت ہونے پر پروفیسر کے خلاف مزید کاروائی کی جائے گی۔"

سٹوڈنٹ کی طرف سے واضح الفاظ میں بے نقاب کئے جانے کے بعد یونی ورسٹی کی انتظامیہ فیس سیونگ کے لئے گرفتار شدہ ملزم کی "معطلی" کو سخت کارروائی قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ 

 
میڈیا آؤٹ لیٹس کے مقامی نمائندوں کو یہ بتا کر گمراہ کیا جا رہا ہے کہ " یونیورسٹی کے پروفیسر سے متعلق یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری اور سخت اقدامات کیے۔"

تھانے جا کر شکایت کرنے پر مجبور ہو جانے والی سینئیر سٹوڈنٹ نے نام نہاد استاد کی جس حرکت کو گھر آ کر اغوا کرنے کی کوشش بتایا ، یونیورسٹی انتظامیہ اب بے شرمی کے ساتھ اس مجرمانہ حرکت کو "شادی کرنے کی کوشش" بتا رہی ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے میڈیا آؤٹ لیٹس کو یہ بتا کر گمراہ کیا گیا کہ "ملزم نے طالبہ کے گھر جاکر اس سے شادی رچانے کی کوشش کی، ملزم کو سرِدست معطل کر دیا گیا۔"

یونی ورسٹی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ  اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں شکایت کنندہ کو   ذاتی شنوائی /personal hearing کا موقع دیا گیا۔"

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ "کمیٹی اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے رہی ہے"،" تادیبی کارروائی کے لیے سینڈیکیٹ کو بھیجا جائے گا۔"ـ یونیورسٹی آف ملاکنڈ غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام دستیاب شواہد کی روشنی میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔"

اب جب کہ پولیس ہریسمنٹ کے ثبوت مل جانے کے بعد ملزم لیکچرر کو ہتھکڑی لگا کر تھانے میں بند کر چکی ہے، ملزم کی طویل عرصہ تک عملاً معاونت کرنے والی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ "مالاکنڈ: ونیورسٹی ہمیشہ سے محفوظ اور مساوی تعلیمی ماحول کی فراہمی کو اولین ترجیح دیتی رہی ہے."انتظامیہ نے معانی سے محروم الفاظ پر مبنی بیان میں مزید کہا، " یونیورسٹی انتظامیہ نے  ہراسمنٹ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی ہے."

ہریسمنٹ سے بچانے کے لئے ادارہ کی کمیٹی کا کردار

ادارہ میں کام کرنے/ تعلیم حاصل کرنے والوں کو  دوسرے کام کرنے/ تعلیم حاصل کرنے والوں/ والیوں کی ہریسمنٹ سے بچانے کے لئے اداروں میں خصوصی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کا کام ہریسمنٹ کی کوئی شکایت سامنے آنے پر احتیاط کے ساتھ خفیہ تحقیقات کرنا اور ہریسمنٹ میں ملوث فرد/ افراد کے خلاف ایسے تادیبی کارروائی کرنا ہے کہ ہراسر پلٹ کر کسی شکایت کنندہ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ وکٹم کو ہراسر کے ردعمل / انتقامی کارروائی-  اور ہر نوع کی بدنامی سے بچانے کے لئے شکایت اور ہر طرح کی متعلقہ معلومات کے افشا سے بچنے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

وکٹم کی شکایت کا واقعتاً غلط ثابت ہو جانے تک یقین کیا جاتا ہے اور ملزم  کے طرز عمل کی نگرانی سے آغاز کر کے اس کے قابلِ تعزیر کنڈکٹ کے شواہد، ثبوت اکٹھے کرنے تک کسی بھی مرحلہ پر شکایت کنندہ کو سامنے نہیں لایا جاتا۔ وکٹم کی شکایت صحیح ہو تو ادارہ ملوث شخص کے خلاف اپنے قواعد کے مطابق تادیبی کارروائی کرتا ہے جس میں وکٹم کے تحفظ، دیگر لوگوں کے تحفظ اور  مسقتبل میں ایسے واقعہ کی پریوینشن کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔

سٹوڈنٹس کا کہنا ہے کہ یونی ورسٹی آف ملاکنڈ کی "اینٹی ہریسمنٹ کمیٹی" نے شکایات موصول ہونے پر ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اب میڈیا کو بھی اس بات کا گواہ بنا لیا ہے کہ "اینٹی ہریسمنٹ کمیٹی الٹا شکایت کنند کو ہی مزید ہراساں کرنے پر عملدآد کرے گی"