سٹی42: کراچی میں مصطفی قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے گھر سے ملنے والے خون کے نمونے مقتول کی والدہ سے میچ کرگئے۔
کراچی کے علاقہ ڈیفینس میں موجوان مصطفیٰ کے قتل کیس کی الجھی ہوئی گھتی بتدریج سلجھنے لگی ہے۔ اس کیس مین ناقص تفتیش کرنے کے ذمہ دار ایس ایش او کو معطل کیا جا چکا ہے جس کے بعد تفتیش تیزی سے آگے بڑھی ہے۔
اب بتایا جا رہا ہے کہ گرفتار ملزم ارمغان کےگھر میں تحقیقات کے دوران قالین پر خون کے جو دھبے پائےگئے تھے وہ مقتول مصطفیٰ کے ہی کون کے تھے۔ ان دھبوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد یہ نمونے مقتول کی والدہ سے میچ کرگئے ہیں۔
مصطفیٰ کی لاش بلوچستان کے علاقے دُریجی میں ایک جلی ہوئی کار سے برآمد ہوئی جسے ایدھی نے وصول کرکے سپرد خاک کیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے مقدمے کے شریک ملزم شیراز عرف شاویز بخاری کو 21 فروری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالےکردیا ہے۔
اسی دوران مقتول کی والدہ نے بیٹے کی لاش کے دوبارہ پوسٹمارٹم کی غرض سے قبر کشائی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
اس قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کا باپ کامران قریشی بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت پہنچا اور اس کے متعلق یہ اطلاعات ملیں کہ اس نے جج کے چیمبر میں زبردستی گھسنے کی کوشش میں پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی اور انہیں امریکی شہری ہونے کی دھمکیاں دے کر خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔
پولیس حکام نےکیس کی ناقص تفتیش اور شواہد اکٹھے نہ کرنے پر ایس آئی او درخشاں انسپیکٹر ذوالفقار اور تفتیشی افسر افتخار علی کو معطل کر رکھا ہے۔
مرکزی ملزم ارمغان کے گھر پر تعینات درجنوں نجی گارڈز کے متعلق ویڈیو بھی منظر پر آئی ہے۔ یہ ویڈیو 4 سے 6 ماہ پرانی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بعد میں اہل علاقہ کی شکایت پر پولیس نے اس گھر پر گارڈز کی تعداد 6 تک محدود کردی تھی۔
اس سے پہلے6 جنوری کو ڈیفینس سے لاپتہ ہونے والے لڑکے مصطفیٰ کی جلی ہوئی لاش اس کے غائب ہونے کے ایک ماہ بعد بلوچستان کے علاقہ سے ملی تھی۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات سے یہ نشاندہی ہوئی کہ مصطفیٰ کو اس کے دوست ارمغان نے تشدد کر کے قتل کیا اور لاش کو بلوچستان کے ویران علاقہ میں لے جا کر گاڑی سمیت آگ لگا دی تھی۔
لڑکی سے دوستی پر حسد قتل کی وجہ بنا
کراچی میں اغوا کے بعد قتل ہونے والے نوجوان مصطفیٰ کے کیس کی تحقیقات میں دو پولیس اہلکاروں کی معطلی کے بعد اہم پیش رفت ہوئی اور پولیس کی نئی ٹیم نے تحقیقات کر کے پتہ لگایا کہ مصطفیٰ کے قتل کا محرک ایک لڑکی تھی، یہ نیو ائیر نائٹ کا واقعہ تھا۔ دونوں لڑکوں مین معمولی جھگڑا ہوا تھا۔ ملزم ارمغان نے حسد کی آگ میں جلتے ہوئے مصطفیٰ سے بھیانک انتقام لیا۔
نیو ائیر نائٹ کے واقعہ کو لے کر ارمغان نے مصطفیٰ کو بہانے سے 6 جنوری کو اپنے گھر بلوایا اور لوہے کے راڈ سے اس پر اپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں تشدد کیا،بے تحاشا تشدد کرنے کے بعد وہ مصطفیٰ کو نیم مردہ یا مردہ حالت میں اس کی ہی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر لے گئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کی گاڑی میں ارمغان اورشیراز کیماڑی سےحب چوکی پہنچے۔
پولیس نے شیراز کو گرفتار کیا تو اس نے تفتیش کے دوران ساری کہانی بتائی، اس کی نشاندہی پر ہی گاڑی کے مصطفیٰ کی گاڑی ہونے اور اس گاڑی سے نکلنے والی بظاہر لاوارث لاش کے مصطفیٰ کی لاش ہونے کی تصدیق ہوئی۔
شیراز اب اعتراف کر چکا ہے کہ اس کے سامنے ارمغان نے گاڑی پرپیٹرول چھڑکنےکے بعد لائٹر سے دور کھڑے رہ کر آگ لگائی، حب چوکی سے تین گھنٹے پیدل چلنے کے بعد وہ دونوں لفٹ لیکر کراچی پہنچے۔
ایدھی نے لاوارث سمجھ کر دفنایا
ملزموں کا لاش کو کراچی سے دور لے جا کر جلا کر ناقابل شناخت بنانے کا مقصد بظاہر اس وقت پورا ہو گیا جب بلوچستان کے علاقے دُریجی میں ایک جلی ہوئی کار سےیہ لاش سامنے آنے کے بعد اس کی شناخت نہ ہو سکی اور ایدھی فائنڈیشن کے اہلکاروں نے پولیس سے لاش وصول کر کے اپنے طریقہ کار کے مطابق لاوارث میت کی حیثیت سے کفن دفن کر دیا۔ کئی فہتے بعد پتہ چلا کہ یہ لاوارث لاش نوجوان مصطفیٰ کی تھی۔ اب مصطفیٰ کی والدہ اس کا پوسٹمارٹم دوبارہ کروانے کے لئے قبر کشائی کروانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مصطفیٰ کے ساتھ ارمغان کے جھگڑے اور بعد مین قتل کی وجہ بننے والی لڑکی اس وقت امریکہ میں اس لڑکی کی فیملی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ بچی اور اس کے گھرانے کا اس سارے معاملہ سے ابتدا سے ہی کوئی تعلق نہیں رہا۔ تاہم یہ لڑکی اب امریکہ میں ہے۔