پنجاب کی بیوروکریسی میں کالی بھیڑیں

پنجاب کی بیوروکریسی میں کالی بھیڑیں

(قیصر کھوکھر) لاہور شہر میں ایک ایس ایس پی مفخر عدیل کی گمشدگی نے پنجاب حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پنجاب پولیس اور لاہور پولیس اسے تلاش کرنے میں مسلسل کوشاں ہے۔ ایس ایس پی مفخر عدیل از خود غائب ہوا ہے یا اسے کسی نے غائب کر دیا ہے، یہ دونوں باتیں ناقابل قبول ہیں۔

 میڈیا میں مسلسل رپورٹ ہو رہا ہے کہ یہ ایک مشکوک واقعہ ہے اور ایس ایس پی مفخر عدیل ایک مشکوک کردار کا مالک افسر ہے ،جو رنگین مزاجی کی وجہ سے پنجاب پولیس میں مشہور ہے، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے کہ مافیازکیساتھ ملوث افسران کا گھیرا تنگ کیا جائے اور کسی بھی مشکوک کردار کے افسر کو کسی بھی قسم کی تقرری نہ دی جائے، لاہور شہر میں ماضی میں کئی پولیس افسران مافیا زاور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور یہ بات کئی بار میڈیا میں بھی آ چکی ہے کہ پولیس افسران خاص طور پر ایس ایچ او کی سطح کے افسران لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرتے یا کراتے رہے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے ابھی حال ہی میں لاہور پولیس کے ایک سابق ایس پی معاذ ظفر نے ایک اوور سیز پاکستانی کی ملتان روڈ پر جو کہ ایک فیکٹری لگانے پاکستان آیا تھا، کی جائیداد پر قبضہ کرا دیا ہے اور اس شخص کیخلاف مختلف تھانوں میں جھوٹے مقدمات بھی درج کرا دیئے گئے ہیں۔

 حکومت پنجاب نے اب وفاقی حکومت کو لکھا ہے کہ ایس پی معاذ ظفر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے۔ اس اوور سیز پاکستانی کے کیس میں ایک سابق سی سی پی او لاہور اور ایک سابق ایس پی سی آئی اے بھی ملوث رہا ہے۔ لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ ایک سیاسی رہنما منور منج کے داماد ایک ڈی ایم جی افسر بھی سرکاری اراضی غلط طور پر الاٹ کرنے میں جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔

 ایک سابق ڈی سی او لاہور بھی اپنی رنگین مزاجی کی وجہ سے مشہور رہا ہے۔ سابق ایس پی طارق عزیز پر بھی قبضہ مافیا کےساتھ تعلقات کے کئی الزامات لگ چکے ہیں ۔ سابق ڈی آئی جی آپریشن لاہور غلام محمود ڈوگر کو ایک شہری کے پلاٹ پر قبضہ کرنے کے الزام پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے عہدہ سے ہٹا دیا تھا اور اس کے بعد سے میاں شہباز شریف نے انہیں اپنے دور حکومت میں فیلڈ تقرری نہیں دی تھی اور انہیں ناپسندیدہ افسر قرار دے دیا تھا۔ اس وقت جب یہ کالم لکھا جا رہا ہے لاہور پولیس کے کئی افسران ناجائز کاموں اور قبضہ گروپ کی پشت پناہی کر رہے ہونگے۔

لاہور پولیس کرائم کی روک تھام پر کم اور دیگر کاموں میں زیادہ مصروف عمل رہتی ہے۔ لاہور پولیس کے جونیئر افسران اور ایس ایچ او کی سطح کے پولیس افسران اپنے افسران بالا کو خوش کرنے کےلئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ یہ اب چیف سیکرٹری پنجاب میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان خان اور آئی جی پولیس شعیب دستگیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ پولیس اور سول بیوروکریسی میں کالی بھیڑوں کی شناخت کریں اور کسی بھی ایسے افسر کو تقرری نہ دیں جس کا ماضی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث رہا ہو۔

 حکومت پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے دور میں افسران کو تقرری دینے سے پہلے ان کے کردار اور کنڈکٹ اور ان کی ایمانداری اورخودداری کی رپورٹ حساس اداروں سے لی جاتی تھی لیکن جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے یہ سلسلہ رک سا گیا ہے ۔اور سارے فیصلے بالا بالا ہو جاتے ہیں اور اس وقت گو کہ موجودہ حکومت نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو فری ہینڈ دے رکھا ہے لیکن سیاسی طور پر اب بھی ان کے انتظامی معاملات میں مداخلت ہو رہی ہے اور ابھی حال ہی میں سیکرٹریوں کے تقرر و تبادلوں میں مسلم لیگ قاف کی سفارشات پر عامر اعجاز اکبر کو سیکرٹری معدنیات لگا یا گیا ہے اور اس طرح دیگر عہدے بھی مسلم لیگ قاف کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی روشنی میں تقرریاں کی گئی ہیں۔ کیونکہ مسلم لیگ قاف نے مطالبہ کیا تھا کہ قاف لیگ کے وزراءکے محکموں میں سیکرٹری اور ماتحت افسران اور سٹاف قاف لیگ کے وزیر کی سفارش پر ہی لگائے جائیں۔

 اس طرح وزیر اعظم کا یہ ویژن کہ پنجاب میں تقرر و تبادلے میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس بااختیار ہیں اس کی نفی ہو گئی ہے۔ بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کرنے کیلئے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی میں ایک بورڈ بنایا جائے اور یہ بورڈ مکمل چھان بین کے بعد افسران کی تقرری کرے خاص طور پر ڈی پی، ڈی ایس پی، اور ایس ایچ او اور تحصیل اور دیگر ضلع کی سطح کی انتظامیہ کے تعیناتیوں پر مکمل طور پر سکروٹنی کی جائے اور صرف اور صرف میرٹ پر عوام دوست افسران کو ہی تعینات کیا جائے اور عوام دشمن اور منفی ذہن کے افسران کو فیلڈ تقرری یا پبلک نوعیت کی کوئی اسائنمنٹ نہ دی جائے۔

 جب افسران میرٹ پر تعینات ہونگے اور اچھے کردار کے افسران تعینات کئے جائیں گے اور انہیں وقت سے پہلے تبدیل نہ کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے انتظامی اور آپریشن معاملات میں مداخلت کی جائے گی تو عوام بھی خوش رہیں گے اور افسران کو بھی میرٹ پرکام کرنے کاموقع ملے گا