سٹی42: بھارت میں مسلمان خاتون کا نقاب نوچنے کے واقعے نے بھارت میں غیرت مندوں اور انسانی حقوق کے رکھوالوں کو اور پاکستان میں صرف غیرت مندوں کو جھنجوڑا، بہت سے لوگوں نے بھارت کی ریاست بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیراعلیٰ کی ایک خاتون کا نقاب زبردستی نوچنے کی جسارت کی شدید مذمت کی , حکومت پاکستان کی طرف سے ایک سینئیر وزیر نے اس واقعہ کی شدید الفاظ مین مذمت کی اور اسے عالمی برادری کے لئے لمحہ فکریہ قرار دیا۔
ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے خاتون کے حجاب اور نقاب کی بے حرمتی پر پاکستان کے وفاقی وزیر اویس لغاری نے اس ریاستی وزیراعلیٰ کی شدید مذمت کی ہے ۔
وفاقی وزیر اویس احمد خاں لغاری نے کہا کہ میں پاکستان کی جانب سے بہار کے وزیرِ اعلیٰ کے اقدام کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بہار میں ڈاکٹر نصرت پروین کی سرِ عام تضحیک انسانی وقار اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے، ایک خاتون کا نقاب زبردستی ہٹانا ناقابلِ قبول اور افسوسناک عمل ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ اس واقعے کو مذاق سمجھنا قابل افسوس ناک ہے۔ بھارت میں مسلم خواتین کے حقوق کو نظرانداز کرنے کا تشویشناک رجحان سامنے آ رہاہے۔ ہم پاکستان کی حکومت کی طرف سے بہار کی مسلم خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
اویس لگاری نے کہا ، ریاست بہار کے وزیرِ اعلیٰ غیر مشروط معافی مانگیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ مذہبی آزادی کی پامالی عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔