سٹی42: زمانہ ساز شخصیت درجنوں تنازعات کا مرکزی کردار میاں منظور احمد وٹو آخر کار فرشتہِ اجل کی پکار پر لبیک کہہ کر راہیِ ملکِ عدم ہو گئے۔
میاں منظور وٹو میاں نواز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران رکن پنجاب اسمبلی بنے۔ وہ ایک مرتبہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر رہے اور تین مرتبہ وزیر اعلیٰٰ رہے۔ منظور وٹو بعد مین قومی اسمبلی مین رکن منتخب ہوئے اور امور کشمیر کے وفاقی وزیر رہے.
منظور احمد وٹو مرحوم کا جنازہ کل 17دسمبر بروز بدھ حویلی وساوے والا اوکاڑہ میں 2بجے ہو گا۔
منظور وٹو کچھ عرصہ پہلے پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے تھے اور اب پیپلز پارٹی کے پنجاب میں اہم سیاستدانوں میں شمار ہوتے تھے۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب قیادت نے سابق وزیراعلی پنجاب میاں منظور احمد وٹو کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ منطور احمد وٹو آج قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے تو سوشل میڈیا پر میاں منظور وٹو کی ہنگامہ خیز شخصیت سے جڑی لاتعداد کہانیاں ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہیں۔
منظور وٹو مسلم لیگ نون کے مینٹور میاں نواز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران پنجاب اسمبلی میں ایک عام رکن تھے، نواز شریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے وزیراعلیٰ اپنے قریبی ساتھی اور مشیر غلام حیدر وائیں کو وزیراعلیٰ بنوایا۔ منکسر سیاستدان غلام حیدر وائیں میاں نواز شریف کی قیادت مین پنجاب کا نطام اس وقت تک ہی چلا سکے جب تک نواز شریف خود وزیراعظم رہے۔
18 اپریل 1993 کو نواز شریف کی وزارت عظمیٰ صرف ڈھائی سال بعد ختم ہو گئی تو اس کے ایک ہی ہفتے بعد غلام حیدر وائیں کی پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ ختم ہو گئی اور ان کی جگہ میاں منظور وٹو ابھر کر آگے آئے اور نواز شریف کی پارٹی کے بہت سے ارکان پنجاب اسمبلی کو ساتھ ملا کر وزیراعلیٰ بن گئے۔
میاں منظور احمد وٹو 25 اپریل 1993 سے 19 جون 1993 تک، 20 اکتوبر 1993 سے 13 ستمبر 1995 تک اور پھر نومبر 1996 میں وزیر اعلیٰ بنے۔ منظور وٹو کو ایک مرتبہ میاں نواز شریف نے کرپشن کے الزامات کی وجہ سے وزارتِ اعلیٰ سے ہٹوایا، وہ ایک سال بعد عدالت کے حکم سے بحال ہو گئے۔ منظور وٹو پنجاب کو اکاؤنٹیبلٹی کورٹ نے دس سال قید اور جرمانے کی سزا بھی دی۔ یہ سزا بعد میں اعلیٰ عدالت کے حکم پر ختم ہو گئی۔
میاں مظور وٹو کے انتقال پر تعزیتیں
سابق وزیراعظم اور سابق سپیکر راجہ پرویز اشرف نے میاں منطور وٹو کے انتقال پر اپنے تعزیتی پیگام میں کہا کہ دکھ اور غم کی گھڑی میں پارٹی قیادت اور کارکن میاں منظور وٹو کے سوگوار خاندان کے ساتھ ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما حسن مرتضی نے اپنے تعزیتی پیگام مین دعا کی کہ اللہ تعالی مرحوم میاں منظور احمد وٹو کی آخری منزلیں آسان کرے۔
میاں منظور وٹو 1985 سے 1993 تک پاکستان مسلم لیگ میں رہے۔ 1993 میں وہ میاں نواز شریف کا ساتھ چھوڑ کر بہت سے ارکان صوبائی اسمبلی کو بھی ساتھ لے گئے اور 1995 تک مسلم لیگ جونیجو میں رہے۔ منظور وٹو 1995 سے 2002 تک پاکستان مسلم لیگ جناح میں رہے۔اس کے بعد 2002 سے 2008 تک وہ مسلم لیگ ق میں رہے۔ مسلم لیگ کے تمام دھڑوں مین رہنے کے بعد منطور وٹو 2008 میں پیپلز پارٹی مین چلے گئے۔ وہ 2018 تک پاکستان پیپلزپارٹی میں رہے اور پھر عمران خان کے ساتھ پی ٹی آئی مین شامل وہ گئے۔ مرحوم منطور وٹو 2018 سے 2020 تک تحریک انصاف میں رہے
2020 کے بعد میاں منظور وٹو نے دوبارہ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وفات کے وقت وہ پیپلز پارٹی کے اہم رکن شمار ہوتے تھے۔