ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈی ایس پی کی بیوی اور بیٹی کے قتل کیس میں ایک اور نیا موڑ آگیا

 ڈی ایس پی کی بیوی اور بیٹی کے قتل کیس میں ایک اور نیا موڑ آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عابد چودھری: ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے قتل کاکیس، لڑکی کی لاش ملنے پر302کی دفعات کےتحت مقدمہ درج نہ کرنےپرایس ایچ او کاہنہ کو معطل کردیا گیا۔

ایس ایچ او کاہنہ، چوکی انچارج صوئے آصل محمد ذوالفقار اور اے ایس آئی اللہ رکھا کو معطل کیا گیا، کاہنہ پولیس نے لڑکی کی لاش ملنے پر پوسٹمارٹم کروایا اور صرف 174 کی کارروائی کی، کاہنہ پولیس نے دفعات 302 کامقدمہ درج نہیں کیا لاش کی لاوارث تدفین کر دی۔ 

واضح رہے کہ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کا کہنا تھا کہ 3ملزم گرفتار کئے گئے ہیں، ڈی ایس پی عثمان حیدرہی قاتل نکلا، ملزم سرکاری گاڑی میں بیوی وبیٹی کےہمراہ ہوٹل سےکھاناکھاکرواپس گھرجارہاتھا۔

ملزم نےگھریلوناچاقی کی بناپررنگ روڈپرفائرنگ کرکےبیٹی اوربیوی کوقتل کردیا،ملزم نےبیوی کی لاش کوکالاشاہ کاکوکےقریب کھائی میں پھینک دی۔

بیٹی کی لاش کوکاہنہ کےعلاقےمیں گندےنالےمیں پھینک دیاتھا،ملزم نےجرم چھپانےکیلئےاہلیہ و بیٹی کےاغواکامقدمہ درج کرایا۔

ملزم اوراس کی بیوی کےدرمیان پلاٹ کےلین دین پرتکراررہتاتھا،بیٹی ماں کاساتھ دیتی تھی اس لیے اُس کوبھی قتل کردیا، ملزم کوپیشہ ورانہ صلاحیت کوبروئےکارلاتےہوئےگرفتارکیاگیا۔