سٹی42: مساوات ایکٹ کے تحت سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ٹرانس خواتین قانونی طور پر خواتین نہیں ہیں۔
انگلینڈ کی عدالتِ عظمی نے آج یہ فیصلہ دیا ہے کہ مساوات ایکٹ 2010 کے تحت عورت کی تعریف کیسے کی جائے گی۔
برطانیہ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ مساوات ایکٹ کی عورت کی تعریف "حیاتیاتی جنس ( بایولوجیکل سیکس) پر مبنی ہے۔
سپریم کورٹ آف انگلینڈ کے پانچ ججوں نے آج دوپہر یہ متفقہ فیصلہ دیا کہ جن ٹرانس جینڈر عورتوں کے پاس جنس کی شناخت کے سرٹیفکیٹ (جی آر سی) ک ہیں، ان کے ساتھ 2010 کے مساوات ایکٹ کے تحت "عورت جیسا سلوک نہیں کیا جانا چاہئے۔"
انگلینڈ کی سپریم کورٹ کے اس فیسلہ کا آسان زبان مین مطلب یہ ہے کہ ٹرنس جینڈر عورتوں کو جینڈر کی شناخت کا سرٹیفیکیت ھبلے ہی عورت تسلیم کرے لیکن وہ انگلینڈ کے قانون کےتحت عورت نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے جیڈرز کی برابری اور تمام جیندرز کے ساتھ انساف کی تحریک عملاً دوبارہ وہیں پہنچ گئی ہے جہاں سے وہ چلی تھی۔
ٹرنس جینڈر عورتیں جنہیں پاکستان مں خواجہ سرا سرا اور کھسرا بھی کہا جاتا ہے ، اب ا نگلینڈ میں عورتین نہین ہیں اور وہ مرد بھی نہیں ہیں کوینکہ وہ مرد نہیں ہیں۔
یہ فیصلہ اسکاٹ لینڈ میں پبلک بورڈز کے لیے لازمی 50 فیصد خواتین کوٹہ میں GRC کے ساتھ ٹرانس جینڈر خواتین کو شامل کرنے کے لیے کیمپین گروپ برائے خواتین اسکاٹ لینڈ (FWS) کی جانب سے لائے گئے چیلنج کے جواب میں ہے۔
سکاٹ لینڈ میں تمام پبلک بورڈز مین خواتین کے لئے 50 فیصد مینڈیٹری کوٹہ ہے، ٹرانس جینڈر جواتین اپنے جیندر ری کوگنیشن سرٹیفیکیٹ کے ذریعہ خود کو عورت کی حیثیت سے پیش کر کے اس کوٹہ کی مدد سے سکاٹ لینڈ کے پبلک بورڈز مین جگہ حاصل نہیں کر سکتیں، تو وہ کیسے ان بورڈز مین جگہ حاصل کر سکتی ہیں؛ سپریم کورٹ آف انگلینڈ کے فیصلہ کے مطابق ان کے لئے پبلک بورڈز میں کوئی کوٹہ نہیں ہے۔
سکاٹش حکومت کے خلاف گروپ کا مقدمہ ایڈنبرا کے ججوں نے 2022 میں مسترد کر دیا تھا۔ تاہم آج بدھ کی صبح سپریم کورٹ نے اس کی اپیل کو منظور کر لیا یعنی ایڈنبرا کی کورٹ کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔
عدالت کے فیصلے کے اس بات پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے کہ کس طرح جنس کی قانونی طور پر تعریف کی جاتی ہے اور اسے برطانیہ کے قانون کے مختلف پہلوؤں پر لاگو کیا جاتا ہے۔ یہ ممکنہ طور پر ٹرانس جینڈر خواتین کے سنگل سیکس ( کسی ایک جینڈر) کے لوگوں کے لئے مخصوص جگہوں ( مثلاً خواتین اور مردوں کے لئے الک الگ پبلک ٹوائلٹس) اور سروسز کو استعمال کرنے کے حقوق کو بھی متاثر کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایکویلیٹی ایکٹ (مساوات ایکٹ) پہلے ہی ٹرانسجینڈر خواتین کو صرف خواتین کے لئے مخصوص گروپوں اور خدمات، جیسے کہ پناہ گزینوں، جیلوں یا کلبوں سے خارج کرنے کی اجازت دیتا ہے - یہاں تک کہ وہ بھی جن کے پاس ان کی جینڈر کی شناخت کا سرٹیفکیٹ (GRC) ہے - اگر یہ "جائز مقصد کے حصول کا ایک متناسب ذریعہ ہے"۔