ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزراء خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کے اثاثوں اور نیب کی جانب سے کارروائی نہ ہونے کے معاملے پر دائر چیئرمین نیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت ، دو رکنی بنچ نے فریقین کے وکلاء کو 18 ستمبر کو حتمی بحث کے لئے طلب کرلیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ محمد احسن عابد کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی ،سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب کی جانب سے ہمیشہ تاخیر کی جاتی ہے، وکلاء اکثر عدالت میں آتے ہی نہیں اور اگر پیش ہوں تو صرف مہلت مانگی جاتی ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟پراسیکیوٹر جنرل نے وضاحت دی کہ چیئرمین نیب بیرونِ ملک سے ہفتے کے روز واپس آئے ہیں، اس لیے وہ ذاتی طور پر اس کیس میں عدالتی معاونت کے لیے پیش ہوئے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب کے مقدمات میں بروقت جواب تک جمع نہیں کرایا جاتا، جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں اور یہ رویہ عدالتی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو یقین دلایا کہ یہ غلطی ان کے پراسیکیوٹر کی تھی جو گزشتہ سماعت پر پیش نہیں ہوا، اس پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک نمٹایا جا چکا ہے اور نیب اس کیس میں اپنا جواب پہلے ہی عدالت میں جمع کرا چکا ہے۔،عدالت نے فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لیے 18 ستمبر کو طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔