ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ریلوے پھاٹک حادثے میں سزا یافتہ ملازمین کی سزاؤں پر نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دئیے کہ سرکاری ملازمین کی غفلت بڑے سانحات کا باعث بنتی ہے، لہٰذا ایسی لاپرواہی اور ریکارڈ میں ردوبدل پر کسی رعایت کی گنجائش نہیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کی ،کیس کے حقائق کے مطابق پتوکی کے قریب ریلوے پھاٹک کھلا رہنے کے باعث تیز رفتار ٹرین ایک کار سے ٹکرا گئی۔ افسوسناک حادثے کے نتیجے میں دو سگے بھائی اپنی بیویوں سمیت جاں بحق ہوگئے۔ سرکاری وکیل نے کہا یہ حادثہ ریلوے کے جمعدار محمود علی اور گیٹ کیپر احمد فراز کی غفلت کا نتیجہ تھا۔ٹرائل کورٹ نے گیٹ کیپر احمد فراز کو سات سال قید اور 94 لاکھ روپے دیت کی سزا سنائی تھی، جبکہ جمعدار محمود علی کو مجموعی طور پر 19 سال قید کی سزا دی تھی۔ ملزمان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس فیصلہ سنایا اور سزاؤں میں کمی کی استدعا کی، تاہم عدالت عالیہ نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جانوں کے ضیاع کا سبب بننے والی غفلت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App