سٹی42: ارضِ سندھ کی قدیم بستی گڑھی یاسین کے جلیل القدر فرزند آغا سراج درانی کی وفات پر ملک بھر میں سیاسی حلقوں میں اور عام شہریوں میں گہرے دکھ اور سوگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ آغا سراج درانی نے بہت طویل عرصہ پاکستان کی سیاست میں شاندار طریقہ سے مثبت کردار ادا کرنے کے بعد آج داعیِ اجل کو لبیک کہا۔
سندھ اسمبلی کے سابق سپیکر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما آغا سراج درانی کچھ دِنوں سے صاحبِ فراش تھے۔ وہ کراچی کے ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں زیر علاج تھے۔
آغا سراج درانی کو ایک ماہ پہلے برین ہیمرج ہوا تھا اور انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ آئی سی یو میں مختصر قیام کے بعد بہتری کے آثار ظاہر ہونے کے بعد انہیں ڈسچارج کر کے ان کی رہائش گاہ منتقل کر دیا گیا تھا۔
تاہم، گھر پر ان کی صحت دوبارہ بگڑ گئی، اور انہیں 10 دن پہلے دوبارہ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ بیشتر وقت بے ہوش رہے اور بدھ کو ڈاکٹروں نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
درانی سندھ کے سیاسی منظر نامے کی ایک نمایاں شخصیت تھے، جن کی پارٹی سے وابستگی چار دہائیوں پر محیط تھی۔
مرحوم آغا صاحب پیپلز پارٹی کے وفادار رکن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قریبی معاون کے طور پر جانے جاتے تھے۔ آغا سراج درانی سندھ کے وزیر تعلیم بھی رہ چکے ہیں اور اپنی از حد متوازن شخصیت کے طفیل سندھ اسمبلی کے سپیکر بنائے گئے۔ وہ اپنے علاقہ کے عوام میں غیر متنازعہ امیج رکھتے تھے اور کئی بار سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
آغا سراج درانی کے انتقال پر تعزیت کے پیغامات
صدر آصف علی زرداری نے درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سیاسی اور عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ مرحوم نے جمہوری اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
President Asif Ali Zardari has expressed deep sorrow over the passing of former Speaker of the Sindh Assembly, Agha Siraj Durrani. The President paid tribute to his political and public services, noting his role in strengthening democracy and serving the people of Sindh.
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 15, 2025
وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب اور سوگوار خاندان کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی نے سندھ اسمبلی کے اسپیکر کی حیثیت سے گرانقدر خدمات سرانجام دیں، سیاست اور عوامی فلاح کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے بھی آغا سراج درانی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ عبدالعلیم خان نے آغا سراج درانی کو سندھ کی سیاست کی ایک بلند پایہ شخصیت قرار دیا اور ان کی زندگی بھر کی سیاسی اور عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پیپلز پارٹی کا مخلص، وفادار اور اصول پسند رہنما قرار دیا۔ انہوں نے سندھ اسمبلی کو مضبوط بنانے اور جمہوریت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھ کے عوام کے لیے ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں درانی کی سیاسی اور عوامی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں صبر و تحمل کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ درانی کی جمہوریت کے لیے جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے انتقال سے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا بھی کی اور سوگوار خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے بھی اسی طرح کے جذبات کی بازگشت کرتے ہوئے کہا، "آغا سراج درانی جیسے سیاستدان نایاب ہیں۔ عوامی خدمت اور دیانتداری سے ان کی وابستگی نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔"
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے بھی درانی کو ایک باوقار اور تجربہ کار رہنما قرار دیتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا جن کی سیاسی بصیرت اور پارلیمانی تجربہ انمول تھا۔
میمن نے کہا، "ان کی موت نہ صرف پی پی پی کے لیے بلکہ پورے سندھ کے سیاسی منظر نامے کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے،" میمن نے مزید کہا کہ درانی کی جمہوریت اور عوامی فلاح کے لیے زندگی بھر کی جدوجہد ایک دیرپا میراث چھوڑی ہے۔
آغا سراج درانی 5 اکتوبر 1953 کو پیدا ہوئے تھے۔5 اکتوبر 1953 کو شکارپور کی تحصیل گڑھی یاسین میں پیدا ہونے والےاس تجربہ کار سیاست دان نے اپنی تعلیم کا آغاز کراچی کے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول سے کیا ۔
پیشہ کے اعتبار سے وہ قانون دان تھ انہوں نے سندھ مسلم گورنمنٹ لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی.ے لیکن انہوں نے سندھ کے عوام کی خدمت کو پیشہ ورانہ زندگی پر ترجیح دی۔ ان کا تعلق سیاسی طور پر سرگرم خاندان سے تھا اور ان کے والد اور چچا دونوں سندھ اسمبلی کے ممبر رہے۔
درانی نے 1980 کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھا اور پہلی بار 1988 میں سندھ سے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران وہ تین بار صوبائی وزیر رہے اور دو بار سندھ اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ وہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پی پی پی سے وابستہ رہے اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری دونوں کے قریبی اور قابل اعتماد ساتھی کے طور پر جانے جاتے تھے۔
وہ اپنی متوازن شخصیت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی طبعی صلاحیت کے طفیل 2013 سے اب تک سندھ کی صوبائی اسمبلی کے موجودہ سپیکر رہ چکے تھے۔
آغا سراج درانی مارچ 2022 سے اکتوبر 2022 تک قائم مقام گورنر سندھ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
آغا سراج درانی کے والد آغا صدرالدین اور چچا آغا بدر الدین بھی سندھ اسمبلی کے سپیکر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔