رائو دلشاد: سینئر لیگی رہنما اور سابق صوبائی وزیر ملک ندیم کامران انتقال کر گئے ہیں، جس پر سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وہ طویل علالت کے باعث ہسپتال میں زیر علاج تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی طبیعت ناساز چل رہی تھی۔
اہل خانہ کے مطابق مرحوم کی نماز جنازہ ان کے آبائی شہر ساہیوال میں ادا کی جائے گی، جہاں عزیز و اقارب، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
مرحوم ملک ندیم کامران، پارلیمانی سیکرٹری جنگلات ملک قاسم ندیم کے والد تھے اور خود بھی طویل عرصے تک سیاست سے وابستہ رہے۔
ان کی سیاسی زندگی کئی دہائیوں پر محیط رہی اور وہ پنجاب کے ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے کیا اور جلد ہی پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شمار ہونے لگے۔
ملک ندیم کامران متعدد بار رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور عوامی نمائندے کے طور پر اپنے حلقے میں بھرپور خدمات انجام دیں۔ اپنی سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے پنجاب کابینہ میں مختلف وزارتوں کے قلمدان سنبھالے اور حکومتی امور میں فعال کردار ادا کیا۔
پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط اور فعال بنانے میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ پارٹی قیادت کے ساتھ ان کے قریبی روابط اور تنظیمی صلاحیتوں کے باعث وہ اندرونی معاملات میں ایک اہم ستون سمجھے جاتے تھے۔ کارکنوں کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ تھا، جس کی وجہ سے وہ ایک کارکن دوست رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق ملک ندیم کامران اپنی بردباری، سنجیدگی اور مفاہمتی انداز سیاست کے باعث منفرد پہچان رکھتے تھے۔ وہ اختلافی معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں مختلف دھڑوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والا رہنما بھی کہا جاتا تھا۔
ان کی وفات سے نہ صرف سیاسی میدان بلکہ ان کے چاہنے والوں میں بھی ایک خلا پیدا ہو گیا ہے، جسے پُر کرنا آسان نہیں ہوگا۔