ویب ڈیسک: سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں فرینچ فرائز (تلے ہوئے آلو) کے زیادہ استعمال سے متعلق خبردار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ عادت ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آلو پکانے کا طریقہ اس کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
محققین کے مطابق فرینچ فرائز کا باقاعدہ استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ ابلے ہوئے، بیکڈ یا دیگر غیر تلے ہوئے آلوؤں کے استعمال سے ایسا کوئی نمایاں خطرہ سامنے نہیں آیا۔
یہ نتائج امریکا میں 2 لاکھ 5 ہزار سے زائد افراد کے طبی اعداد و شمار کے تجزیے سے حاصل کیے گئے، جن کی صحت کا تقریباً 40 برس تک جائزہ لیا گیا۔ اس طویل تحقیق کے دوران 22 ہزار سے زائد شرکا میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص ہوئی۔
ماہرین کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم انسولین کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتا، جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی سطح غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہفتے میں تین بار فرینچ فرائز کھانے والے افراد میں ذیابیطس کا خطرہ تقریباً 20 فیصد زیادہ پایا گیا۔ اس کے برعکس غیر تلے ہوئے آلو استعمال کرنے والوں میں خطرے میں کوئی واضح اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
محققین نے غذائی متبادلوں کا بھی جائزہ لیا اور پایا کہ فرینچ فرائز کی جگہ مکمل اناج، جیسے براؤن رائس یا جو، کو غذا میں شامل کرنے سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 19 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب آلو کے متبادل کے طور پر سفید چاول کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھنے کے شواہد ملے، جو صحت مند غذائی انتخاب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے اور اس سے براہِ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صرف فرینچ فرائز ہی ذیابیطس کا سبب بنتے ہیں، تاہم تحقیق کا وسیع پیمانہ اور تقریباً چار دہائیوں پر محیط دورانیہ اس تعلق کے حوالے سے مضبوط شواہد فراہم کرتا ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور کم چکنائی والی غذاؤں کا انتخاب ذیابیطس سمیت متعدد بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔