ویب ڈیسک:آسٹریلیا نے فاسٹ بالر مچل اسٹارک کی تباہ کن اور ریکارڈ ساز بولنگ اسپیل کی بدولت میزبان ویسٹ انڈیز کو تیسرے ٹیسٹ میں 176 رنز سے شکست دے کر کلین سوئپ مکمل کرلیا۔
آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آخری میچ کنگسٹن میں کھیلا گیا جہاں میچ کے تیسرے روز میزبان ٹیم کو میچ جیتنے کیلئے 204 رنز کی ضرورت تھی۔
ایسے میں آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے اپنے کیریئر کا بہترین اسپیل ڈال کر ٹیسٹ کرکٹ کا 78 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا اور اپنی ٹیم کو میچ میں فتح دلوادی۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف204 رنز کا دفاع کرتے ہوئے مچل اسٹارک نے تباہ کن بولنگ کی اور ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین 5 وکٹیں مکمل کیں۔
اسٹارک نے اپنے اسپیل کی صرف 15 گیندوں میں 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور ٹیسٹ کرکٹ میں کم سے کم گیندوں پر 5 وکٹیں مکمل کرنے کا 78 سال پرانا ریکارڈ توڑا۔

اس سے قبل 1947 میں آسٹریلیا کے ایرنی توشاک(Ernie Toshack) نے بھارت کے خلاف اپنے اسپیل کی 19 گیندوں پر 5 وکٹیں لی تھیں۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف 204 رنز کے ہدف کا دفاع کرتے ہوئے اسٹارک نے مجموعی طور پر 9 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔
اس کے علاوہ مچل اسٹارک نے ٹیسٹ کرکٹ میں 400 وکٹیں بھی مکمل کرلیں ۔انہوں نے یہ کارنامہ اپنے 100 ویں ٹیسٹ میں سرانجام دیا۔ وہ یہ سنگِ میل عبور کرنے والے چوتھے آسٹریلوی بولر ہیں۔
میزبان ویسٹ انڈیز کی ٹیم 204 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی بولنگ لائن کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور صرف 27 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔
ویسٹ انڈیز کے 7 بیٹر صفر پر آؤٹ ہوئے۔یہ ٹیسٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک اننگز میں 7 بیٹر بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔
آسٹریلیا کی جانب سے اسٹارک کی 6 وکٹوں کے علاوہ اسکاٹ بولینڈ نے ہیٹ ٹرک کی اور جیت میں مدد کی جبکہ جوش ہیزل ووڈ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔