(مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد اب نگران سیٹ اپ لگانے کیلئے پی ٹی آئی اور ن لیگ متحرک ہوگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے ڈاکٹر سلمان شاہ، شعیب سڈل اور پرویز حسن کے نام سامنے آگئے، آج پنجاب پی ٹی آئی لیڈرشپ کے اجلاس میں بھی ناموں کا جائزہ لیا جائے گا، آج پرویز الٰہی بھی کچھ نام تجویز کریں گے، پی ٹی آئی تمام ناموں کا جائزہ لینے کے بعد2 تجویز کرے گی۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویز الہٰی نے کہا کہ ہم نے اچانک اعتماد کا ووٹ لے کر انہیں سرپرائز دیا ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے گورنر کےکہنے پر اعتماد کا ووٹ لیا، اب مسلم لیگ (ن) کی باری ہے، جب صدر انہیں اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں گے تو ان کو جان کے لالے پڑ جائیں گے۔
دوسری جانب نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے مسلم لیگ (ن) نے تین ناموں پر غور شروع کردیا جبکہ قیادت نے مزید نام بھی طلب کیے ہیں، پارٹی کی جانب سے جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے، سابق بیورو کریٹ ناصر مسعود کھوسہ اور جسٹس جواد ایس خواجہ کے ناموں پر غور ہوگا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق قیادت نے سینئر رہنماؤں سے نگراں وزیراعلی کے لیے مزید نام بھی طلب کرلیے۔
واضح رہے کہ گورنر پنجاب نے قائم مقام وزیراعلی چوہدری پرویز الہی اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو نگراں وزیراعلی کی تقرری کے لیے خط لکھ رکھا ہے، حمزہ شہباز اس وقت بیرون ملک موجود ہیں۔
آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نگراں وزیر اعلیٰ کا تقرر وزیر اعلیٰ پنجاب اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کی مشاورت سے کریں گے‘ دونوں اپنے اپنے امیدواروں کے نام گورنر کو بھیجیں گے۔