سٹی42: اپنے بچوں کی خدمت کے لئے ملازم رکھی کم سن بچی کو ظالم مالکوں نے تشدد کر کے مار ڈالا۔ تشدد کی وجہ چند روپے مالیت کی چاکلیٹ چوری کرنے کا شبہ بتائی جا رہی ہے۔
برطانیہ کی نیوز آؤٹ لیٹ بی بی سی نے اپنی ویب سائٹ پر راولپنڈی مین چائلڈ لیبر کے زمرہ میں آنے والی ایک کم عمر گھریلو ملازمہ کے ساتھ اس کو ملازم رکھنے والی فیملی کے بہیمانہ تشدد کے نتیجہ مین بچی کی موت ہو جانے کی المناک سٹوری پوسٹ کی ہے۔
(انتباہ: اس رپورٹ میں شامل چند تفصیلات قارئین کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔)
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں مقتولہ بچی کے والد کے حوالے سے بتایا کہ ’دونوں نے محض اس بات پر اسے مارا کہ اس نے ان کے بچوں کے لیے لائی گئی چاکلیٹس میں سے ایک چاکلیٹ چوری کی ہے لیکن میری بیٹی نے جواب دیا کہ بابا میں نے چاکلیٹ چوری نہیں کی۔‘
13 سالہ اقرا، جو راولپنڈی میں گزشتہ دو سال سے ایک گھر پر صرف 8 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کے عوض کام کرتی تھیں، اس کی دو ہفتے پہلے اپنے والد سے ہونے والی اس بات چیت کے بارے میں ان کے والد ثنا اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے بیٹی کو سمجھایا کہ ’کوئی بات نہیں، معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔‘
ثنا اللہ خود سرگودھا کے رہائشی ہیں، انہوں نے بیٹی کو صرف 8 ہزار روپے ماہانہ رقم کمانے کے لئے شقی القلب فیملی کی ملازمہ رکھوا کر ان کے ہی پاس چھوڑ رکھا تھا اور خود کبھی کبھی اسے ملنے کے لئے یا اس کی تنخواہ کے پیسے وصولنے کے لئے راولپنڈی جاتے تھے۔
یہ ثنا اللہ کا اپنی بیٹی سے آخری رابطہ ٹیلی فون پر ہونا۔ اس فون پر بات چیت کے دو ہفتے بعد ثنا اللہ کو راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال سے فون موصول ہوا جس میں انھیں بتایا گیا کہ ان کی بیٹی ایمرجنسی میں داخل ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔
ثنا اللہ کہتے ہیں کہ وہ یہ بات سن کر اپنے دو رشتہ داروں کےساتھ راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال پہنچے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی؛ 13 سالہ اقرا دم توڑ چکی تھیں۔
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے متصل راولپنڈی کی پولیس نے 13 سالہ کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کر کے اسے ہلاک کرنے کے الزام میں میاں بیوی سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ملزموں کو گزشتہ روز مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں دو مرکزی ملزموں کا چار دن کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا جبکہ ایک ملزمہ کو جسمانی ریمانڈ کی بجائے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
پولیس حکام نے کہا ہے کہ اس واقعے کی مکمل چھان بین کر کے اس میں ملوث دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں قتل کی دفعات کا بعد میں اضافہ کیا جبکہ مقتولہ اقرا کے ورثا نے پوسٹ مارٹم کے بعد اس کی لاش کی تدفین آبائی گاؤں میں کر دی۔
قریب المرگ بچی کو ہسپتال چھوڑ گئے
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اقرا کو زخمی حالت میں ایک خاتون ہسپتال چھوڑ کر گئی تھی جو مرکزی ملزموں کی رشتہ دار ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’جب ہسپتال کے عملے نے بچی کے ورثا کے بارے میں پوچھا تو اس خاتون کا کہنا تھا کہ بچی کا والد فوت ہو چکا ہے جبکہ والدہ عدت میں ہیں اس لیے وہ ہسپتال نہیں آ سکتیں۔‘
پولیس اہلکار نے بتایا کہ ’اس بات پر ہسپتال کے عملے کو شک ہوا کیونکہ بچی کی حالت کو دیکھ کر انھوں نے محسوس کیا کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘
ہسپتال کے اہلکاروں نے بچی کی حالت پر رحم کھایا اور اس پر تشدد ہونے کے شبہ کی اطلاع پولیس کو کر دی۔ پولیس نے سب سے پہلے اسی خاتون کو تلاش کیا گیا جو اقرا کو ہسپتال چھوڑ کر گئی تھیں۔
اہلکار کے مطابق ’جب اس خاتون سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے بتایا کہ اسے کہا گیا تھا کہ اس بچی کو ہسپتال چھوڑ کر آ جائے۔‘
تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کے مطابق متعلقہ علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر ملک رفاقت نے بعد میں اقرا کے والد سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کے بقول پولیس افسر کی جانب سے اقرا کے والد کو ایزی پیسہ کے ذریعے راولپنڈی آنے کا کرایہ بھی بھجوایا گیا۔
’آہنی راڈ سے تشدد‘
راولپنڈی پولیس کے حکام کے نوٹس میں جب یہ واقعہ آیا تو پولیس نے ملزمان کو تحویل میں لے لیا اور ان سے اس واقعہ سے متعلق پوچھ گچھ شروع کر دی۔
تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس اہلکار کے بقول ’ملزمان نے اعتراف کیا کہ یہ معاملہ ایک چاکلیٹ کی مبینہ چوری سے شروع ہوا تھا۔‘
مقامی پولیس کے مطابق ’ملزمان نے آہنی راڈ سے اقرا کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد تین روز تک گھریلو ٹوٹکوں سے اس کا علاج کرنے کی کوشش کی گئی تاہم حالت خراب ہونے پر اسے ایک خاتون کی مدد سے ہسپتال پہنچا دیا گیا۔‘
بہت زیادہ تشدد کے واضح نشان
اقرا کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والی ٹیم میں شامل ڈاکٹر فرقان نے بی بی سی کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی تفصیلی رپورٹ ابھی تک نہیں آئی تاہم ’ابتدائی معائنے میں جسم پر تشدد کے بہت زیادہ نشانات دیکھے گئے۔‘
ان کے مطابق ’ایسا محسوس ہوا کہ کسی آہنی چیز سے اس پر تشدد کیا گیا۔‘
ڈاکٹر فرقان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بچی کے سر پر تین مقامات پر چوٹیں آئیں جن کی وجہ سے اس کا نروس سسٹم بریک ڈاؤن ہو گیا‘۔
انھوں نے بتایا کہ جب بچی کو ہسپتال منتقل کیا گیا تو اس وقت اس کے دونوں پاؤں مڑے ہوئے تھے۔
تشدد اور قرضہ
کم عمر مقتولہ کے والد ثنا اللہ سرگودھا کے رہائشی ہیں۔ ان کے پانچ بچے تھے جن میں اقرا سمیت تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔ وہ خود منڈی بہاؤالدین میں ایک زمیندار کے پاس ملازمت کرتے ہیں۔
ثنا اللہ نے بتایا کہ پانچ سال پہلے انھوں نے زمیندار سے 10 لاکھ روپے قرضہ لیا تھا۔ وہ اس قرضے کے عوض زمیندار کی زمینوں پر کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں۔
مقتولہ اقرا کے والد ثنا اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دو ہفتے پہلے بیٹی نے فون پر جسمانی تشدد کے بارے میں بتایا۔
ثنا اللہ کے بقول ’بیٹی نے بتایا کہ اتنا زیادہ تشدد کیا گیا کہ اس کے جسم کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں۔‘ اقرا نے والد سے کہا کہ اسے اپنے ساتھ گھر لے جائیں۔
ثنا اللہ کے بقول اقرا نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا کہ ’ان دونوں نے اس بات پر اسے مارا کہ اس نے ان کے بچوں کی چاکلیٹس میں سے ایک چاکلیٹ چوری کی. بیٹی نے فون پر باپ کو بتایا،' بابا میں نے چاکلیٹ چوری نہیں کی۔'باپ نے بیٹی کو سمجھایا کہ ’کوئی بات نہیں، معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔‘
ثنا اللہ نے اپنی بچی کی حالت کو تو سمجھ لیا کہ خراب ہے لیکن اس کے باوجود وہ اسے بچانے کے لئے راولپنڈی نہیں گئے۔ ان کا عذر یہ ہے کہ ان کے مالی وسائل اتنے نہیں تھے کہ اپنی بچی کو دیکھنے کے لیے راولپنڈی آتے۔
اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مقتولہ اقرا پہلے بھی ملزمان کے گھر پر کام کرتی تھی ’جب ایسی ہی جسمانی تشدد کی شکایات پر بچی کے ورثا اس کو لیکر سر گودھا چلے گئے تھے۔‘
پولیس اہلکار کے مطابق اس واقعے کے ایک سال کے بعد ملزم نے دوبارہ اقرا کے والد ثنا اللہ سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ بچی کو دوبارہ کام کے لیے ان کے گھر پر چھوڑ دیں کیونکہ ’بچوں کا اقرا کے ساتھ دل لگا ہوا تھا۔‘ ’ثنا اللہ 2023 میں اپنی بیٹی کو دوبارہ ملزمان کے گھر پر چھوڑ آئے اور ان سے 8 ہزار روپے کے حساب سے ایک سال کی تنخواہ ایڈوانس میں لی۔‘
مقتولہ کے والد نے اعتراف کیا کہ تشدد کی اطلاع ملنے سے پہلے وہ تین مہینوں سے بیٹی کی خبر لینے کے لئے نہیں گئے تھے۔ تین ماہ پہلے بیٹی سے ملنے راولپنڈی آئے تھے لیکن ’اس وقت اس نے کسی تشدد کی بات نہیں کی تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ ملزم نے انھیں تین ماہ کی تنخواہ ایڈوانس میں دے دی تھی، اس لئے وہ تین مہینوں تک دوبارہ پنڈی نہیں گئے۔
’ایسے مقدمات ریاست کی مدعیت میں درج ہوں‘
کم عمر ملازمہ بچیوں پر سنگین نوعیت کے تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ سخت تادیبی قوانین کی موجودگی کے باوجود یہ رجحان ملک بھر میں پایا جاتا ہے۔
فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل بشارت اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسے واقعات کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج ہونا چاہیے تاکہ لواحقین میں سے کوئی سمجھوتہ یا راضی نامہ نہ کر سکے اور ذمہ داروں کو سزا دلوائی جا سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ مقدمہ بھی مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا، جو ایک غریب آدمی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مد عی پیسوں کے عوض ملزمان کو معاف کر دے۔‘
اس مقدمے کے مدعی ثنا اللہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزموں کے رشتہ دار ان سے رابطہ کر رہے ہیں اور ان کے بقول ’وہ اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے ہر مطالبے کو پورا کرنے کو تیار ہیں۔‘
دوسری جانب پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو بھی اس مقدمے کی تفتیش پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی آپشن استعمال کریں گے۔
پاکستان میں گھریلو ملازم کی حیثیت سے بھرتی کر کے غلام بنا کر رکھی گئی بچیوں پر سنگین نوعیت کے تشدد کا گزشتہ واقعہ اسلام آباد مین ہوا تھا جہاں ایک جج کی بیوی نے بچی کو قریب قریب مار ہی ڈالا تھا۔ خوش قسمتی سے اس بچی کو نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی کی توجہ مل گئی تھی جنہوں نے بچی کو اسلام آباد سے لاہور لا کر اس کے لئے لاہور جنرل ہاسپٹل میں 14 ڈاکٹروں کا بورڈ بنوایا اور ڈاکٹر دن رات کوشش کر کے بچی کو موت کے منہ سے واپس لے آئے۔ اس بچی کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا۔ اب وہ مکمل بحال ہو چکی ہے۔